’اسقاطِ حمل سے ذہنی بیماری کا خطرہ نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption خواتین میں ڈپریشن جیسے عمومی عارضے کے خطرے کی شرح 11 سے12 فیصد ہوتی ہے

برطانیہ میں ایک طبی جائزے سے معلوم ہوا ہے کہ اسقاط حمل کرانے سے خاتون کی ذہنی صحت متاثر ہونے کا خطرہ نہیں ہوتا۔

چوالیس طبی تحقیقوں سے حاصل ہونے والے مواد سے یہ بھی پتہ چلا ہے کہ عام طور پر ان خواتین میں ذہنی صحت کے مسائل کا شکار ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے جو نہ چاہنے کے باوجود حاملہ ہوجاتی ہیں۔

اس سے اس بات کا بھی کوئی تعلق نہیں ہوتا کہ آیا انہوں نے اسقاطِ حمل کرایا ہو یا بچے کو جنم دیا ہو۔

لیکن اسقاط حمل کے خلاف مہم چلانے والوں کا کہنا ہے کہ حمل کے خاتمے کا جو نفسیاتی اثر ہوتا ہے، اس طبی جائزے سے اسے کم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

اس طبی جائزے کے لیے برطانوی محکمہ صحت نے فنڈز فراہم کیے تھے اور اسکے نتائج ان تحفظات کے بعد سامنے آئے ہیں کہ اسقاط حمل کا خاتون کی ذہنی صحت پر منفی اثر پڑتا ہے۔

عام طور پر خواتین میں بے چینی اور ڈپریشن جیسے عمومی عارضوں کے خطرے کی شرح گیارہ سے بارہ فیصد ہوتی ہے۔

لیکن اس طبی جائزے سے معلوم ہوا ہے کہ ان خواتین میں یہ شرح تین گنا زیادہ ہوتی ہے جن کی حمل کی خواہش نہیں ہوتی لیکن وہ حاملہ ہوجاتی ہیں۔

اسی بارے میں