کینیڈا کیوٹو ماحولیاتی معاہدے سے علیحدہ

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption کیوٹو کینیڈا کے لیے ماضی کی بات ہے:پیٹر کینٹ

کینیڈا کے وزیرِ ماحولیات کا کہنا ہے کہ ان کا ملک ماحولیاتی تبدیلیوں کے ’کیوٹو پروٹوکول‘ معاہدے سے علیحدگی اختیار کر رہا ہے۔

پیٹر کینٹ کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ کینیڈا کے لیے مستقبل کی راہ متعین نہیں کرتا اور کینیڈا کو اپنے اہداف پورے نہ کرنے کی صورت میں بھاری جرمانوں کا سامنا ہو سکتا ہے۔

کینیڈا وہ پہلا ملک ہے جو اس معاہدے سے الگ ہو رہا ہے۔ کیوٹو معاہدہ سنہ انیس سو ستانوے میں جاپان کے شہر کیوٹو میں طے پایا تھا اور اس کا مقصد عالمی حدت میں اضافے پر قابو پانے کی کوششیں کرنا تھا۔

ٹورنٹو میں پیٹر کینٹ نے کہا کہ ’کیوٹو کینیڈا کے لیے ماضی کی بات ہے اور ہم اس سے علیحدگی کا قانونی حق استعمال کر رہے ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ وہ کینیڈا کی معاہدے سے علیحدگی کے بارے میں سرکاری طور پر اقوامِ متحدہ کو مطلع کریں گے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کیوٹو پروٹوکول کے تحت کینیڈا پر عائد ذمہ داریاں پوری کرنے پر تیرہ ارب ساٹھ کروڑ ڈالر کا خرچہ متوقع تھا جو کہ ہر کینیڈین خاندان سے سولہ سو ڈالر لینے کے مترادف ہے۔

پیٹر کینٹ نے کہا کہ ’کینیڈا کے باشندوں کے لیے کیوٹو کی یہ قیمت ہے اور یہ ایک نااہل حکومت کی باقیات تھا‘۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر یہ قیمت ادا کر بھی دی جائے تو بھی دنیا میں گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج کم ہونے والا نہیں کیونکہ دنیا میں سب سے زیادہ آلودگی پھیلانے والے دو ممالک امریکہ اور چین اس معاہدے کا حصہ نہیں ہیں۔

اسی بارے میں