دھوپ سے چکن پاکس میں کمی

Image caption چکن پاکس کا سبب بننے والا وائرس ’ویریسیلا زوسٹر‘ بہت تیزی سے پھیلتا ہے

ایک نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ لاکڑا کاکڑا یا چکن پاکس کا پھیلاؤ دھوپ لگنے سے کم ہوجاتا ہے۔

جرنل ورولوجی میں شائع ہونے والی ایک تحقیقی رپورٹ میں لندن یونیورسٹی کے تحقیق کاروں نے کا کہنا ہے کہ چکن پاکس ان خطوں میں اتنا عام نہیں ہے جہاں سورج کی شعاعیں زیادہ ہوتی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ سورج کی روشنی جلد پر چکن پاکس کے وائرس کو غیرمتحرک کردیتی ہے جس کے بعد وائرس کے لیے دوسروں تک منتقل ہونا بہت مشکل ہوجاتا ہے۔

لیکن دوسرے طبی ماہرین کہتے ہیں کہ چکن پاکس کے پھیلاؤ کی روک تھام میں صرف سورج کی روشنی ہی نہیں بلکہ دوسرے عوامل بھی اہم کردار ادا کرتے ہے مثلاً درجہ حرارت، ہوا میں نمی کی شرح اور رہائش کی جگہ اور ماحول وغیرہ۔

چکن پاکس کا سبب بننے والا وائرس ’ویریسیلا زوسٹر‘ بہت تیزی سے پھیلتا ہے۔ یہ وائرس مریض کے کھانسنے اور چھینکوں سے دوسروں کو لگ سکتا ہے لیکن اس کے پھیلنے کا اصل سبب چکن پاکس کے دانے ہوتے ہیں جن کا لمس دوسروں کو بھی متاثر کرسکتا ہے۔

یہ پہلے سے معلوم ہے کہ دھوپ میں الٹرا وئلٹ شعاعیں وائرس کو غیر متحرک کردیتی ہیں۔ تحقیق کے سربراہ اور سینٹ جارج میں لندن یونیورسٹی کے ڈاکٹر فِل رائس کو یقین ہے کہ اصل وجہ یہ ہی ہے کہ ایسے خطوں میں جہاں دھوپ کم ہوتی ہے چکن پاکس کے وائرس تیزی سے پھیلتے ہیں۔

ان کے بقول برطانیہ جیسے ممالک جہاں سردیوں میں سورج کی شعاعیں انتہائی کم ہوتی ہیں چکن پاکس کے پھیلنے کے خدشات بھی بڑھ جاتے ہیں۔

یونیورسٹی کالج لندن کی پروفیسر جُوڈی بریور کا کہنا ہے کہ یہ حقیقت ہے کہ سورج کی شعاعیں وائرس کو محدود رکھنے میں کردار ادا کرتی ہیں لیکن ان وائرس کے پھیلاؤ میں دیگر عوامل کو بھی مدنظر رکھا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا ’الٹرا وائلٹ کے علاوہ بھی کئی چیزیں ہیں جیسے حرارت، نمی، معاشی عوامل اور لوگوں کا رش‘

ان کے بقول ’یہ بہت ممکن ہے کہ الٹرا وائلٹ کِرنوں کا بہت اثر ہوتا ہو لیکن ہمارے پاس ایسا کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ہے جس سے ثابت ہو کہ اس کا کتنا اثر ہوتا ہے۔‘