کاغد سے بجلی پیدا کرنے والی بیٹری

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

جاپانی کمپنی سونی ایک ایسی بیٹری منظرعام پر لائی ہے جو عام کاغذ کے ذریعے بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

اس نئی ٹیکنالوجی میں عام کاغذ کے ٹکڑوں کو چینی کی شکل میں تبدیل کیا جاتا ہے اور چینی کو ایندھن کے طور پر استعمال کر کے بجلی پیدا کی جاتی ہے۔

سونی نے اس منصوبے کو گزشتہ ہفتے ٹوکیو میں منعقدہ ماحول دوست مصنوعات کی نمائش میں پیش کیا ہے۔

اگر اس ٹیکنالوجی کو فروخت کے لیے پیش کیا جاتا ہے تو صارفین اپنے موبائل فونز کی بیٹریوں کو ردی کاغذ کی مدد سے چارج کر سکیں گے۔

بیٹری میں استعمال ہونے والے ٹینکالوجی میں حیاتی کیمیا کے ذریعے مواد کے اجزاء کو علیحدہ کر کے گلوکوز چینی میں تبدیل کیا جاتا ہے، بعد میں آکسیجن کے ذریعے اجزا کو مزید علیحدہ کیا جاتا ہے جو مواد کو الیکڑونس اور ہائیڈروجن ایون( کوئی ایٹم یا ایٹموں کا مجموعہ جس میں ایک یا زیادہ الیکڑون خارج ہوتے ہیں) میں تبدیل کر دیتے ہیں۔

بیٹری ان الیکڑون کے ذریعے بجلی پیدا کرتی ہے۔

اس تحقیقاتی منصوبے میں شامل سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس ٹیکنالوجی میں اس طریقہ کار کو بنیاد بنایا گیا ہے جس کے تحت سفید چونٹیاں لکڑی کو کھانے کے بعد اس کو توانائی میں تبدیل کرتی ہیں۔

سونی کی ایڈوانس میٹریل لیبارٹری کے سربراہ یوچئی ٹوکیٹا کا کہنا ہے کہ’ایک عام ایندھن کا استعمال جیسا کہ مبارکباد کے پرانے کارڈز، جو اس کرسمس پر ہمیں لاکھوں کی تعداد میں موصول ہونگے، ان کے ذریعے بائیو بیٹری اتنی بجلی تیار کر سکتی ہے جس کی مدد سے ایک پنکھا چلایا جا سکتا ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا ہے کہ بلکل ابھی یہ ٹیکناجوجی ابتدائی سطح پر ہے لیکن جب آپ اس ٹیکنالوجی کے نتائج کے بارے میں سوچتے ہیں تو یہ بہت خوشی ملتی ہے۔

ماحول دوست تنظیموں نے اس نئی ایجاد کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ روایتی بیٹریوں کی ٹیکنالوجی کے اس لیے خلاف ہیں کہ بیٹریوں میں زہریلے کیمیکل استعمال کیے جاتے ہیں اور ان کو تلف کرنے کا عمل بھی بہت پیچیدہ ہوتا ہے۔

اسی بارے میں