ناسا کے مصنوعی سیارے چاند کے مدار میں

تصویر کے کاپی رائٹ Lockheed Martin
Image caption گریل اے کامیابی سے چاند کے مدار میں پہنچ چکا ہے

امریکی خلائی ادارہ ناسا پہلی مرتبہ چاند کی کششِ ثقل کا مطالعہ کرنے کے لیے دو مصنوعی سیارچے چاند کے مدار میں پہنچانے میں کامیاب ہوگیا ہے۔

یہ مصنوعی سیارے چاند کی سطح، اس کی اندورنی تہوں، اور ناہموار حصوں میں کششِ ثقل کے اتار چڑھاؤ، کے بارے میں معلومات زمین پر بھیجیں گے۔

گریل اے نامی سیارے کے مرکزی انجن سنیچر کو چلائے گئے تاکہ اس کی رفتار پر قابو پا کر اس کا چاند کے گرد چکر لگانے کا عمل شروع کیا جا سکے جبکہ گریل بی نامی سیارے پر یہ عمل اتوار کو کیا جائے گا۔

امکان ہے کہ ان سیارچوں کی مدد سے حاصل ہونے والی معلومات سے سائنسدانوں کو پتہ چلے گا کہ وقت کے ساتھ ساتھ چاند میں کیا تبدیلیاں ہوئیں۔

اس مہم کی مرکزی رکن سائنسدان ڈاکٹر ماریہ زوبر ڈرامائی انکشافات کی امید کر رہی ہیں۔

امریکی سائنسدان کا کہنا ہے کہ نئے سال کے آغاز پر ان کا عزم یہی ہے کہ وہ چاند سے وابستہ پراسراریت کا خاتمہ کریں اور یہ سمجھیں کہ کیسے چاند، زمین اور دیگر پتھریلے سیاروں کا ارتقاء ہوا۔

انہوں نے کہا کہ ’اب جب کہ گریل اے کامیابی سے چاند کے مدار میں پہنچ چکا ہے، ہم اس مقصد کے حصول کی جانب ایک اہم قدم اٹھا چکے ہیں‘۔

یہ دونوں مصنوعی سیارے گزشتہ ستمبر میں خلاء میں بھیجے گئے تھے اور اب یہ بیاسی دن تک یعنی جون دو ہزار بارہ تک چاند کی کششِ ثقل کا مطالعہ کریں گے۔

اس کے بعد اگر یہ چاند گرہن کا عرصہ اپنی بیٹریوں پر گزرانے میں کامیاب رہے تو کششِ ثقل کے مطالعے کا دوسرا دور دو ہزار بارہ کی آخری ششماہی میں شروع ہوگا۔

اسی بارے میں