کہرے میں اضافہ، فضائی آلودگی ذمہ دار

دلی میں کہرے کی ایک فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اب کہرا زیادہ تیر تک رہتا ہے

سائنسدانوں اور حکام کا کہنا ہے کہ حیاتیاتی ایندھن جلانے سے سردی میں ہونے والے کہرہ گھنا ہوا گیا ہے اور اس کی مدت بھی اب زیادہ ہوگئی ہے۔

بنگلہ دیش، بھارت اور نیپال میں درجہ حرارت کم ہوتے ہی کہرہ شروع ہو جاتا ہے، دھویں کے بادل آسامان پر چھائے رہتے ہیں اور کئی روز تک دھوپ نہیں نکلتی۔

کہرے کی وجہ سے ہوائی اور ریل کا سفر متاثر ہوا ہے اور عام زندگی بھی متاثر ہوئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ کچھ سالوں میں گنگا ندی کے قریب کے علاقوں میں کہرے میں اضافہ ہوا ہے۔

بھارتی محکمہ موسمیات کے ڈاریکٹر بی پی یادو نے کہا کہ ’1990 سے اب تک شمالی بھارت میں کہرے کی مدت میں اضافہ ہو رہا ہے، یعنی وہاں اب کہرہ زیادہ دنوں کے لیے آتا ہے۔‘

نیپال کے محکمہ موسمیات کے ڈائریکٹر جنرل کیوش پرساد شروا نے اس بات پر اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی سرحد سے منسلک نیپال کے علاقوں میں کہرے کی پریشانی بڑھ گئی ہے۔

بعض سائنسدان تفتیش کر رہے ہیں کہ کیا فضائی آلودگی اور کہرے سے علاقے کے لوگوں کی صحت بھی متاثر ہوئی ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق جن اموات کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ وہ سرد لہر کی وجہ سے ہوئی ہیں وہ اصل میں سانس میں تکلیف لینے کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ بنگلہ دیش میں ماحولیات کے ماہر اقبال حبیب کا کہنا ہے کہ ’ہمارے ملک میں یہ صرف لوگوں کی صحت کا معاملہ نہیں ہے۔ کہرے کی وجہ سے سارا ٹرانسپورٹ ٹھپ ہوجاتا ہے۔‘ بنگلہ دیشی ماہرین کا کہنا ہے کہ عام گاڑیاں، فیکٹریاں اور بجلی گھروں کے دھویں اور اینٹ بنانے کے بھٹوں میں اضافہ بنگلہ دیش میں آلودگی میں اضافہ ہوا ہے۔

محقیقن کے مطابق بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں اینٹ بنانے کے بھٹوں سے بڑی تعداد میں آلودگی پھیل رہی ہے۔ بنگلہ دیش کی طرح بھارت میں بھی سردیوں میں عمارتیں بنانے کا کام تيزی سے ہوتا ہے۔

بھارت میں محکمہ موسمیا ت کے ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ تعمیراتی کام سے بھی آلودگی میں اضافہ ہوتا ہے۔

اسی بارے میں