فیس بک،گوگل کو دلّی ہائیکورٹ کی تنبیہ

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption بھارت میں کروڑوں افراد انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں

دلی ہائی کورٹ نے سوشل نیٹ ورکنگ سائٹ فیس بک اور سرچ انجن گوگل کو خبردار کیا ہے کہ اگر یہ ویب سائٹس قابل اعتراض مواد پر قابو پانے اور انہیں ہٹانے کا انتظام نہیں کرتیں، تو چین کی طرح بھارت میں ان پر پابندی لگائی جا سکتی ہے۔

یہ بات جمعہ کو عدالت میں سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹس پر قابلِ اعتراض مواد کی موجودگی اور اس کے باآسانی رسائی کے سلسلے میں جاری مقدمے کی سماعت کے دوران کہی گئی۔

عدالت کے جج جسٹس سریش كیت نے کہا کہ اگر یہ مواد نہ ہٹایا گیا تو ’چین کی طرح ایسی تمام ویب سائٹ کو بلاک کر دیں گے‘۔

انہوں نے فیس بک اور گوگل انڈیا کی طرف سے پیش ہونے والے وکلاء سے کہا کہ وہ ایسا نظام پیش کریں جس سے قابل اعتراض مواد پر قابو پایا جا سکے اور اسے ہٹایا جا سکے۔

گوگل انڈیا کے وکیل مكل روہتري نے کہا کہ ویب سائٹ پر فحش اور قابلِ اعتراض مواد کو روکا نہیں جا سکتا اور نہ ہی اس کی نگرانی ہو سکتی ہے۔

انہوں نے کہا، ’اس معاملے میں کسی بھی شخص کا دخل ممکن نہیں ہے۔ ایسے مواد پر کنٹرول کرنا ممکن نہیں۔ پوری دنیا کے اربوں لوگ اپنے مضمون ویب سائٹ پر شائع کرتے ہیں، وہ قابل اعتراض یا فحش ہو سکتے ہیں، لیکن ان پر قابو نہیں کیا جا سکتا‘۔

انہوں نے گوگل انڈیا اور اس کی مالک امریکہ میں واقع کمپنی گوگل انکارپوریٹڈ میں فرق بتانے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ گوگل انکارپوریٹڈ سروس پروائیڈر ہے اور گوگل انڈیا اس کے اقدامات کی ذمہ دار نہیں۔

مكل روہتري نے کہا کہ گوگل انکارپوریٹڈ کو بھی کسی تیسرے فریق کی کارروائی کے لیے ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا، جو ویب سائٹ کا استعمال قابل اعتراض اور فحش مواد شائع کرنے کے لیے کرتے ہیں۔

حکومت کی جانب سے پیش ہوئے ایڈیشنل سالسٹر جنرل ایس چڈيوك نے گوگل انڈیا کے دلائل پر اعتراض کیا اور کہا کہ امریکہ میں قائم گوگل انکارپوریٹڈ کے پاس یہ سہولت ہے کہ وہ جان سکتا ہے کہ کون قابل اعتراض مواد شائع کر رہا ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ ماہ دلی کی ہی ایک عدالت نے فیس بک ، گوگل ، یاہو اور مائیکروسافٹ سمیت بائیس سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹس کو ویب سائٹ پر موجود قابل اعتراض مواد ہٹانے کے لیے چھ فروری تک کی مہلت دی تھی۔

اسی بارے میں