کیا ہم خلاء سے سگنل کے لیے تیار ہیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ SPL

کئی دہائیوں سے ہم خلاء میں جان بوجھ کر یا حادثاتی طور پر سگنل بھیج رہے ہیں اور خلائی مخلوق کی جانب سے دیے گئے سگنل یا براڈکاسٹ کو سننے کی کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن اگر خلائی مخلوق کی جانب سے بھیجا گیا سگنل ہمیں مل جاتا ہے تو کیا ہم نے کوئی منصوبہ بندی کی ہوئی ہے؟

اگر خلائی مخلوق کی جانب سے کوئی سگنل بھیجا جاتا ہے تو وہ سگنل سیٹی یعنی سرچ فار ایکسٹر ٹیرسٹیئل انٹیلجنس کو موصول ہو گا۔

سیٹی چند درجن ریسرچرز پر مشتمل ہے جو دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ہیں اور اس امید میں ہیں کہ ان کو خلاء سے کوئی سگنل موصول ہو گا۔ سیٹی کو اکثر فنڈز کی کمی کا سامنا ہوتا ہے اور ان کا مذاق بھی اڑایا جاتا ہے۔

وہ دنیا کی سب سے بڑی ریڈیو دوربین سے آنے والے سگنلز اور کسی غیر معمولی چیز پر نظر رکھتے ہیں۔

سیٹی کا آغاز 1959 میں مخص ایک شخص سے ہوا جس کے پاس ایک دوربین تھی۔ اور آج کل کمپیوٹرز کے ذریعے خلاء سے ممکنہ سگنل پر نظر رکھی جاتی ہے۔

لیکن اس وقت کیا ہو گا جب ان ریسرچرز کو خلائی مخلوق سے سگنل موصول ہو جاتا ہے؟

کچھ کا کہنا ہے کہ حکومت اس کو راز ہی میں رکھنے کی کوشش کرے گی جبکہ کچھ کا کہنا ہے کہ دنیا میں ایک کہرام برپا ہو جائے گا۔

لیکن سیٹی کے ماہرِ فلکیات ڈاکٹر سیٹھ شوسٹک کا کہنا ہے کہ ایسا کچھ نہیں ہو گا۔

’یہ کہنا بالکل احمقانہ ہے کہ حکومت اس کو چھپانے کی کوشش کرے گی ورنہ لوگ پاگل ہو جائیں گے۔ جب 1900 کے اوائل میں کہا گیا تھا کہ مریخ پر نہریں موجود ہیں تو لوگوں میں افراتفری نہیں پڑی تھی۔ لوگوں نے کہا کہ شائد خلائی مخلوق موجود ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ اگر ایک کمپیوٹر کسی قسم کے سگنل کے بارے میں متنبہ کرتا ہے تو اس سگنل کی تصدیق کے لیے دنیا میں موجود دیگر دوربینوں سے رجوع کیا جائے گا اور اس مرحلے میں ایک ہفتہ لگ سکتا ہے۔ ’اس دوران لوگ اپنے عزیز و اقارب کو فون کر ضرور بتائیں گے۔‘

سنہ 1997 میں اسی قسم کے ایک پیغام نے یہ ثابت کردیا تھا کہ اس کوچھپانا ناممکن ہے۔

ڈاکٹر شوسٹک کہتے ہیں ’ہم اس سگنل کو دیکھ رہے تھے اور انتظار کر رہے تھے کہ سرکاری طور پر اس کے بارے میں کیا کہا جاتا ہے۔ کسی نے فون کر کے دریافت کرنا گوارہ نہیں کیا اور اگر کسی نے کیا تو وہ تھی صرف میڈیا۔‘

تو کیا کسی قسم کی منصوبہ بندی موجود ہے جس کے تحت اگر سگنل موصول ہوتا ہے تو کس کو آگاہ کیا جائے؟

ڈاکٹر شوسٹک کا کہنا ہے کہ ایسا کوئی منصوبہ موجود نہیں ہے۔ ’اگر سگنل موصول ہوتا ہے تو اس کا اعلان کردیا جائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ SPL
Image caption ’ہو سکتا ہے کہ مختصر سا سگنل موصول ہو جس میں کہا جائے ’ہیلو زمین پر رہنے والو‘۔ یا پھر نہایت پیچیدہ سا پیغام۔‘

عالمی تنظیم اقوامِ متحدہ کا ایک دفتر ویانا میں ہے اور سیٹی نے اس دفتر سے سگنل ملنے پر کیا لائحہ عمل اپنانا چاہیے جاننے کے لیے رابطہ کیا تو اس دفتر کا جواب تھا ’انہیں نہیں معلوم‘۔

فی الوقت منصوبہ بندی ایریزونا سٹیٹ یونیورسٹی کے پال ڈیوس پر چھوڑی گئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں نہیں معلوم کہ کس قسم کا سگنل موصول ہوتا ہے اور اس سگنل کو سمجھنے میں سال یا پھر دہائیاں لگ سکتی ہیں۔

’ہو سکتا ہے کہ مختصر سا سگنل موصول ہو جس میں کہا جائے ’ہیلو زمین پر رہنے والو‘۔ یا پھر نہایت پیچیدہ سا پیغام۔‘

سیٹی کے ریسرچرز کا کہنا ہے کہ سگنل کا جواب ضرور دینا چاہیے۔ لیکن جواب میں کیا کہا جائے اس پر کوئی متفق نہیں۔

’جواب دیتے وقت ان کی پسند اور ناپسند کا خیال لرکھنا ہو گا جن کے بارے ہمارے پاس معلومات نہیں ہیں۔ ہاں اگر کوئی چیز ہم میں اور ان میں مشترک ہے تو وہ ہے ریاضی اور طبیعات۔‘

لیکن سیٹی کا کہنا ہے کہ جو بھی جواب بھیجنا ہے اس پر عالمی طور پر اتفاق ہونا ضروری ہے۔

اسی بارے میں