قوانین کے خلاف احتجاج: وکی پیڈیا عارضی طور پر بند

تصویر کے کاپی رائٹ 1
Image caption وکی پیڈیا کے علاوہ کئی اور انٹرنیٹ کمپنیاں بھی اس احتجاج میں شریک ہیں

آن لائن انسائیکلوپیڈیا ’وکی پیڈیا‘ نے امریکہ میں جملہ حقوق کے تحفظ کے مجوزہ قوانین کے خلاف احتجاجاً اپنی انگریزی زبان کی ویب سائٹ بدھ کو چوبیس گھنٹے کے لیے بند کر دی۔

یہ احتجاج ’سوپا‘ یعنی سٹاپ آن لائن پائریسی ایکٹ اور ’پیپا‘ یعنی پروٹیکٹ انٹیلیکچوئل پراپرٹی ایکٹ کے خلاف کیا جا رہا ہے جو اس وقت کانگریس میں زیرِ بحث ہیں۔

وکی پیڈیا کے علاوہ کئی اور انٹرنیٹ کمپنیاں بھی اس احتجاج میں شریک ہیں جو امریکہ کے مشرقی معیاری وقت کے مطابق رات بارہ بجے سے چوبیس گھنٹے کے لیے شروع ہوا ہے۔

امریکہ میں واشبرن یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر لیاقت علی نے بی بی سی اردو سروس سے بات کرتے ہوئے کہا ان دونوں قوانین کی وضاحت کی۔

انہوں نے کہا کہ ایک قانون سینیٹ میں اور ایک کانگریس میں زیر بحث ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا مقصد امریکہ سے باہر غیر ملکی کمپنیوں کو کنٹرول کرنا ہے۔

ڈاکٹر لیاقت علی نے کہا کہ ان قوانین کا ہدف وہ غیر ملکی ویب سائٹیں ہیں جو امریکی ٹی وی اور ریڈیو پر نشر ہونے والا مواد اور امریکی فلمیں بغیر اجازت کے نشر کرتی ہیں اور دوسری وہ ویب سائٹیں جو غیر معیاری مواد جسے سستی نقل بھی کہا جا سکتا ہے فروخت کرتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان قوانین کا مقصد تو خاصا اچھا ہے لیکن اس کی مخالفت اس بنیاد پر ہو رہی ہے کہ اس کے اطلاق میں لوگوں کو زیادتی کا امکان نظر آتا ہے۔ اس قانون کی زد میں وہ ویب سائٹیں بھی آ سکتی جن کا مواد چوری کرنے کا کوئی ارادہ نہیں۔

ڈاکٹر لیاقت علی نے کہا کہ مجوزہ قوانین کو کمپنیوں کی جنگ بھی کہا جا سکتا ہے۔ اس جنگ میں ایک طرف سی بی ایس، مائیکروسافٹ اور دیگر ایسی کمپنیاں ہیں جو مواد تیار کرتی ہیں اور ان قوانین کی مخالفت وہ کمپنیاں کر رہی ہیں جو مواد نشر کرتی ہیں مثلاً گوگل اور فائرفاکس۔ انہوں نے کہا کہ مواد تیار کرنے والے چاہتے ہیں جب کوئی ان کا گانا سنے یا فلم دیکھے انہیں اس کے پیسے ملیں۔

ڈاکٹر لیاقت علی نے کہا کہ امریکی کانگریس کو ایسا قانون بنانا پڑے گا جس میں آزادی رائے کا حق بھی محفوظ رہے اور مواد کی چوری بھی رک جائے۔

اس سوال کے جواب میں کہ امریکہ اپنی حدود سے باہر اس قانون پر کیسے عمل درآمد کروائے گا؟ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر لیاقت نے کہا کہ جو کمپنیاں مواد نشر کرنے والی ویب سائٹوں کی طرف سے پیسے وصول کرتی ہیں وہ یہ وصولی بند کر دیں گی۔ ایسی ویب سائٹوں کو بلاک بھی کیا جا سکے گا۔

وکی پیڈیا کے بانی جمی ویلز نے بی بی سی کو بتایا کہ ’سوپا کے خالقین نے اپنے مخالفین کو ایسی شکل میں پیش کیا جیسے وہ لوگ پائریسی کے حق میں یا اس کا دفاع کرنا چاہتے ہیں‘۔

ان کا کہنا ہے کہ ’درحقیقت ایسا نہیں ہے۔ مدعا یہ ہے کہ اس بل کا مسودہ اتنا برے طریقے سے لکھا گیا ہے کہ اس کا اثر ان سب چیزوں پر بھی ہوگا جن کا پائریسی روکنے سے کوئی تعلق نہیں‘۔

ایوانِ نمائندگان میں اس بل کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اس بل کو ’بدمعاش ویب سائٹس‘ کو رقم کی فراہمی کا سلسلہ روکنے کے لیے بنایا گیا ہے۔

خیال کیا جا رہا ہے کہ امریکی صدر اس بل کو ویٹو کر سکتے ہیں۔ سنیچر کو وائٹ ہاؤس نے ایک بیان بھی جاری کیا ہے جس میں بظاہر ان قوانین کے مخالفین کا ساتھ دیا گیا ہے۔

بیان کے مطابق ’جہاں ہم یہ مانتے ہیں کہ غیر ملکی ویب سائٹس کی آن لائن پائریسی ایک سنجیدہ مسئلہ ہے جس کے لیے قانون سازی ضروری ہے، وہیں ہم ایسی قانون سازی کے حامی نہیں جس سے اظہارِ رائے کی آزادی کم ہو، سائبر سکیورٹی کے خدشات میں اضافہ ہو یا پھر عالمی انٹرنیٹ کو نیچا دکھایا جائے‘۔

ان امریکی مسودۂ قوانین کے تحت ان ویب سائٹس پر پابندی لگا دی جائے گی جن پر غیر قانونی کاپی رائٹ مواد موجود ہوگا اور اس مواد کے اصل مالکین اور امریکی حکومت کو ان بلوں کے تحت یہ حق دیا جائے گا کہ وہ عدالت سے ان ویب سائٹس کی بندش کی درخواست کر سکیں جو پائریسی میں ملوث ہیں۔

اس کے علاوہ مشتہرین، رقم کی منتقلی اور انٹرنیٹ فراہم کرنے والی کمپنیوں کو بھی امریکہ سے باہر قائم ایسی کمپنیوں سے کاروبار کرنے پر پابندی ہوگی جو پائریسی میں ملوث پائی جائیں گی۔

اس کے علاوہ ’سوپا‘ میں سرچ انجنز سے بھی کہا گیا ہے کہ وہ ایسی ویب سائٹس کو اپنی فہرست سے ہٹا دیں تاہم ’پیپا‘ میں یہ شق موجود نہیں۔

وکی پیڈیا کا کہنا ہے کہ اس کی انگلش ویب سائٹ کے منتظمین نے اس پہلے عوامی احتجاج کا فیصلہ اس لیے کیا کیونکہ یہ بل ’آزاد ویب کے لیے تباہ کن ثابت ہوں گے‘۔ تاہم ٹوئٹر کا کہنا ہے کہ وہ اس احتجاج میں حصہ نہیں لے گا کیونکہ ’قومی سیاست کے ایک نکتے پر عالمی کاروبار بند کر دینا حماقت ہے‘۔

اسی بارے میں