لیپ سیکنڈ کا فیصلہ ملتوی کر دیا گیا

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

اس بات کا فیصلہ کہ لیپ سکینڈ کو ختم کر دیا جائے یا نہیں سنہ 2015 تک ملتوی کر دیا گیا ہے۔ لیپ سیکنڈ وہ اضافی سیکنڈ ہے جو کہ ہر چند سالوں کے بعد جوہری گھڑیوں کے وقت میں ملایا جاتا ہے تاکہ انہیں زمین کی گردش کی مدد سے چلنے والی گھڑیوں کے برابر رکھا جا سکے۔

انٹرنیشنل ٹیلی کمیونیکیشن یونین کے ماہرین ’لیپ سکینڈ‘ کے متعلق کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے اس لیے یہ فیصلہ 2015 تک کے لیے ملتوی کر دیا گیا۔

چند ممالک جیسے کہ امریکہ، فرانس، کینیڈا، جاپان، میکسیکو اور اٹلی اس سیکنڈ کو ختم کرنا چاہتے ہیں جبکہ برطانیہ اور جرمنی اس کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔

لیپ سیکنڈ کو ختم کرنے کی تجویز پر بحث جمعرات کی دوپہر جنیوا میں ریڈیو کمیونیکیشن اسمبلی کے اجلاس میں ہوئی۔

امریکہ کا کہنا تھا کہ لیپ سیکنڈ کی وجہ سے مواصلات اور نیویگیشن کے نظام میں مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ جبکہ برطانیہ کا موقف تھا کہ اس کو کھونے کے طویل المعیاد نتائج بہت زیادہ ہیں۔

انٹرنیشنل ٹیلی کمیونیکیشن یونین کی اس معاملے پر کام کرنے والی کمیٹی کے چیرمین ران بیئرڈ کا کہنا تھا کہ یہ ایک تکنیکی نہیں بلکہ سفارتی مسئلہ ہے۔

دنیا کے وقت کا پیمانہ، جوہری گھڑیوں کی مدد سے کام کرتا ہے۔ جوہری گھڑیاں مادے کے زروں کی حرکت کو ناپ کر وقت کا تعین کرتی ہیں۔

یہ گھڑیاں اس قدر درست وقت بندی کرتی ہیں کہ دنیا کی گردش جس کا پہلے وقت بندی کےلیے استعمال ہوتا تھا غلط لگنے لگتی ہے۔

زمین گردش کے دوران تیز یا آہستہ ہو سکتی ہے جس کی وجہ سے کبھی کبھی ہمارے دنوں کے دورانیہ میں چند ملی سیکنڈ کا فرق پڑ جاتا ہے۔

اس کے نتیجے میں سنہ انیس سو بہتر میں لیپ سیکنڈ کا نظام بنایا گیا تاکہ دونوں قسم کی گھڑیوں کو برابر رکھا جا سکے۔ لیپ سیکنڈ کا اضافہ کرنے سے پہلے چھ مہینے کا نوٹس دیا جاتا ہے۔

یہ اضافہ تب کیا جاتا ہے جب انٹرنیشنل ارتھ روٹیشن سروس اس بات کا اعلان کرے کہ دونوں قسم کی گھڑیوں کے درمیان سفر اعشاریہ نو سیکنڈ کا فرق آگیا ہے۔

اس نظام کو ختم کرنے کا مطالبہ کرنے والوں کا کہنا ہے کہ ایک سیکنڈ کا یہ اضافے ایک بڑھتا ہوا مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ یہ مسئلہ خاص طور پر جہاز رانی اور ٹیلی کمیونیکیشن کے نظاموں کے لیے مشکلات پیدا کرتا ہے کیونکہ انہیں مسلسل وقت کا حوالہ چاہیئے ہوتا ہے۔

متاثر ہونے والے نظاموں میں سیٹلائٹس کا نظام، مالیاتی سروسز کا نظام، انٹرنیٹ، بجلی مہیا کرنے کا نظام اور فلائٹ کنٹرول شامل ہیں۔

انٹرنیشنل بیورو آف ویٹس اینڈ مییرز کے محکمہ وقت کے ڈائیریکٹر، ڈاکٹر فلیشیٹاس آریاس کا کہنا تھا کہ لیپ سیکنڈ بحری جہاز رانی کے منتظمین کی درخواست پر متعارف کرایا گیا تھا مگر اب ان کے پاس وقت کے تعین کے دوسرے طریقے موجود ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption لیپ سیکنڈ کا اضافہ سیٹلائیٹ نظام کے لیے مشکلات پیدا کرتا ہے

انہوں نے کہا ’اب لیپ سیکنڈ کی کوئی خاص ضرورت نہیں۔‘

دوسری جانب جو اس نظام کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ اس سے پیدا ہونے والی مشکلات لیپ سیکنڈ کو ختم کرنے کا جواز نہیں ہیں۔

برطانیہ میں واقع نیشنل فزیکل لیبارٹری کے وقت اور فریکوئنسی پر کام کرنے والے سینیئر محقق پیٹر وبرلی کا کہنا ہے ’ لیپ سیکنڈ کے استعمال کو روکنا شاید وقت بندی کے سلسلے میں گزشتہ چند صدیوں کا اہم ترین فیصلہ ہوگا۔ پہلی بار دنیا بھر کا سول وقت مکمل طور پر انسانی گھڑیوں کے مدد سے ناپا جائے گا اور زمین کی گردش سے لا تعلق کر دیا جائے گا۔‘

دہائیوں کے گزرنے پر تو زمینی گردش پر منحصر گھڑیوں اور جوہری گھڑیوں میں صرف چند منٹوں کا ہی فرق پڑے گا مگر پانچ سو سال میں یہ فرق ایک گھنٹے سے تجاوز کر سکتا ہے۔

برطانیہ کے وزیرِ سائنس ڈیوڈ ولٹز کا کہنا تھا کہ برطانیہ کا موقف ہے کہ ہمیں دنیا بھر میں رائج موجودہ نظام کو برقرار رکھنا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ لیپ سیکنڈ کے استعمال کو روکنے سے ہم وقت اور عام لوگوں کے دن رات کے احساس کے بیچ تعلق کھو بیٹھیں گے۔

لیپ سیکنڈ کو ختم کرنے کا معاملہ پہلی بار زیرِ غور نہیں آ رہا۔ سنہ دو ہزار پانچ میں امریکہ نے لیپ سیکنڈ کو ختم کرنے اور اس کی جگہ لیپ گھنٹے کے اضافے کی تجویز کی تھی مگر اس مطالبے کو رد کر دیا گیا۔

اسی بارے میں