دہشتگردی کا خطرہ، تحقیق روک دی گئی

برڈ فلو: فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption تحقیق کے پوری طرح شائع کرنے اور نہ کرنے پر اختلاف ہے

برڈ فلو کے پھیلاؤ پر تحقیق کرنے والے سائنسدانوں نے اس کے وائرس کی مہلک سٹرین یا قسم بنا تو لی ہے لیکن اب انہیں اس بات کا خطرہ ہے کہ کہیں یہ دہشتگردوں کے ہاتھ نہ لگ جائے۔ اس لیے اب اس پر عارضی طور پر کام روک دیا گیا ہے۔

جریدے سائنس اور نیچر میں شائع ہونے والے ایک خط میں سائنسدانوں کی ٹیم نے اس تحقیق سے پیدا ہونے والے خطرات اور اس کی اقدار پر بحث کے لیے ایک بین الاقوامی فورم کا مطالبہ ہے۔

گزشتہ ماہ امریکی حکام نے تحقیق کرنے والوں کو کہا تھا کہ وہ اس کی اہم تفصیل جرائد میں شائع ہونے سے قبل دوبارہ ایڈٹ کریں۔

حکومت کے ایک مشاورتی پینل نے اس بات کا خدشہ ظاہر کیا تھا کہ دہشتگرد شائع شدہ ڈیٹا استعمال کر سکتے ہیں۔

بائیو سکیورٹی کے ماہرین کہتے ہیں کہ ’میوٹنٹ‘ وائرس کی قسم 19۔1918 کے ’سپینش فلو‘ کی وبا سے زیادہ مہلک ثابت ہو سکتی ہے جس کی وجہ سے تقریباً چالیس ملین لوگ ہلاک ہو گئے تھے۔

عالمی ادارۂ صحت نے دسمبر میں اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ تحقیق تک رسائی پر کسی قسم کی بندش لگانے سے ادارے کے ممبران کے درمیان معاہدے کو نقصان پہنچے گا۔

برڈ فلو، انفلوئنزا کی سب سے خطرناک اقسام میں سے ایک ہے جس کی زد میں آنے والے جانداروں میں سے ساٹھ فیصد کی موت واقع ہو جاتی ہے۔

اگرچہ برڈ فلو ایک مہلک وائرس ہے لیکن اس کا پھیلاؤ محدود ہے اوگر یہ انسانوں میں ایک سے دوسرے کو نہیں لگ سکتا۔ تاہم ہولینڈ کی ایراسمس یونیورسٹی اور امریکہ کی یونیورسٹی آف وسکنسن۔میڈیسن نے ایک مشترکہ تحقیق کے دوران کہا گیا ہے کہ سائنسدانوں نے ایچ 5 این 1 فلو وائرس میں تھوڑی سی تبدیلی کے بعد اس وائرس کو انسانوں اور دیگر ممالیہ جانداروں میں باآسانی پھیلانے کا طریقہ دریافت کر لیا ہے۔ انہوں نے یہ تجربہ قطبی بلے پر کیا۔

سائنسدانوں کی طرف سے جمعہ کو شائع ہونے والے ایک خط میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ لوگوں کی صحت کے لیے ایک سے دوسرے کو لگ جانے والی مہلک بیماری کے ’سٹرین‘ کے متعلق پہلے سے جاننا اس کے قدرتی طور پر ’میوٹنٹ‘ ہونے کے بعد جاننے سے زیادہ گراں قدر ہے۔

اسی بارے میں