یورپ کی برف غائب، ایشیا میں سردی

کشمیر میں برفباری
Image caption بشمالی بھارت میں بھی شمال سے آنے والی سرد ہواؤں کی وجہ سے سردی کی شدت میں اضافہ ہوا ہے

یورپ میں اس برس موسم سرما نسبتاً گرم رہا اور کئی ملکوں میں برفباری دیکھنے میں نہیں آئی لیکن اس کے برعکس جنوب مشرقی ایشیا شدید سردی کی لپیٹ میں ہے۔

پاکستان کے محکمۂ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ اِس برس سردی کی شدت گزشتہ دو دہائیوں میں سب سے زیادہ ہو گی۔ ملک کے مغربی صوبے بلوچستان کے شہر کوئٹہ میں صرف ایک رات کے دوران بیس سینٹی میٹر برف پڑی ہے۔

شہر کے آس پاس کے پہاڑ برف سے ڈھک چکے میں اور خراب موسم کی وجہ سے نیشنل ہائی وے پر سینکڑوں گاڑیاں پھنس گئی ہیں۔ دوسری جانب اِس خراب موسم کے دوران بجلی اور گیس کی قلت نے لوگوں کی زندگیوں کو عذاب بنا دیا ہے۔

لیکن دوسری جانب ماہرین ماحولیات کا کہنا ہے کہ موسم کی اِس تبدیلی کے کچھ مثبت اثرات بھی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ برف باری کے نتیجے میں زیرِ زمین پانی کی سطح میں جو تیزی سے کم ہو رہی ہے وہ رک جائے گی اور گرمیوں کے موسم میں دریاؤں میں بھی زیادہ پانی آئے گا۔

شمالی بھارت میں بھی شمال سے آنے والی سرد ہواؤں کی وجہ سے سردی کی شدت میں اضافہ ہوا ہے۔ اِن علاقوں میں درجہ حرارت معمول سے کم ہو گیا ہے۔ سنیچر کو رات گئے بھارتی فضائیہ نے بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت سری نگر میں شدید برف باری میں پھنسے ہوئے ایک ہزار کے قریب لوگوں کو وہاں سے نکالا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ موجود موسم کی وجہ لا نینا ہے جو خاص طور پر مشرقی بحرالکاحل کے پانیوں میں درجہ حرارت کی کمی کی وجہ سے وقوع پذیر ہوتا ہے۔ موسم کی شدت میں مزید اضافہ کی وجہ بحرالکاحل اور بحرہِ ہند میں درجہ حرارت کی کمی ہے۔

اسی بارے میں