بغیر راکٹ سائنس کے خلاء کےکنارے تک اڑان

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

ایک ایسے وقت میں جبکہ امریکہ خلاء میں اپنے انسانی مشن میں کمی کررہا ہے، کینیڈا کے دو طلبہ نے یہ ثابت کر دکھایا ہے کہ خلاء کے کنارے تک اڑنے کے لیے ہمیشہ کسی راکٹ سائنس کی ضرورت نہیں ہوتی۔

کینیڈا کے شہر ٹورنٹو کے ان طلبہ کے نام میتھو ہو اور اسد محمد ہیں جو سکول میں پڑھتے ہیں۔ ان دونوں نے انسان نما ایک چھوٹے کھلونے اور کیمرے کو بادلوں سے اوپر پہنچانے کے لیے ایک ایسی شے کا استعمال کیا جو بچوں میں بہت مقبول ہے۔

ان بچوں نے ایک گتے کے ڈبے پر کیمرہ اور کینیڈا کا جھنڈا تھامے ہوئے ایک انسان نما چھوٹے کھلونے کو نصب کیا اور پھر اس ڈبے کو ایک بڑے غبارے سے منسلک کرکے اسے ہوا میں چھوڑ دیا۔

اس غبارے نے فضاء میں اندازاً چوبیس کلومیٹر تک سفر کیا اور اسکے بعد غبارہ پھٹ گیا لیکن ان بچوں نے چونکہ گتے کے ڈبے پر ہی ایک چھوٹا پیرا شوٹ نصب کردیا تھا اس لیے کیمرے کی فلم اور کھلونا حفاظت سے زمین پر اتر آیا۔

اگرچہ اسکا نزول اس جگہ سے سو کلومیٹر سے زیادہ فاصلے پر زمین پر ہوا جہاں سے اسے فضاء میں چھوڑا گیا تھا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ان بچوں نے جی پی ایس آلے کی مدد سے گتے پر نصب کھلونے اور کیمرے کو ڈھونڈ بھی نکالا۔

اب اس حیرت انگیز تجربے میں کیمرے نے کرہ ارض کے ماحول کی جو فلم بنائی ہے وہ انٹرنیٹ پر بہت مقبول ہورہی ہے۔