’مصنوعی ریشوں کے کپڑے سے آبی آلودگی‘

تصویر کے کاپی رائٹ None
Image caption تحقیق کے دوران دنیا کے اٹھارہ ساحلوں سے پانی کے نمونے حاصل کیے گئے

ایک تازہ تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ مصنوعی مرکبات سے تیار شدہ کپڑوں کی دھلائی کے دوران ان سے خارج ہونے والے پلاسٹک کے انتہائی باریک ذرات سمندروں میں جمع ہو رہے ہیں اور یہ ذرات غذائی چکر میں شامل ہو سکتے ہیں۔

تحقیق کاروں نے سمندرں میں ملنے والے پلاسٹک کے ان باریک ذرات کا منبع بھی تلاش کیا ہے جو ان کے مطابق مصنوعی مرکب سے تیار ہونے والے کپڑے ہیں۔

تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ سنتھیٹک یا مصنوعی مرکب سے تیار ہونے والے کپڑے ہر دھلائی میں فی لباس ایک ہزار نو سو باریک فائبر ذرات خارج کرتے ہیں۔

اس سے پہلے کی تحقیق سے معلوم ہوا تھا کہ انسانی زندگی میں پلاسٹک کی مصنوعات کے بے تحاشہ استعمال کی وجہ سے ایک ملی میٹر سے بھی چھوٹے پلاسٹک کے ذرات جانوروں کی خوراک میں شامل ہو رہے ہیں اور ان کے ذریعے غذائی چکر کو آلودہ کررہے ہیں۔

اس تحقیق میں شامل یونیورسٹی آف کیلی فورنیا سانتا باربرا کے ماحولیاتی ماہر مارک براؤن نے کہا ہے کہ اس سے پہلے کی تحقیق سے یہ انکشاف ہوا تھا کہ ہمارے ماحول میں پلاسٹک کی جو آلودگی ہے اس کا 80 فیصد پلاسٹک کے ایسے ہی معمولی ذرات سے پیدا ہوتا ہے۔

ان کے بقول اسی انکشاف سے ان کے ذہن میں یہ معلوم کرنے کا خیال آیا کہ یہ آلودگی پلاسٹک کے کس قسم کے ذرات سے جنم لے رہی ہے اور یہ ذرات ہمارے ماحول میں آتے کہاں سے ہیں۔

مسٹر براؤن نے کہا کہ پلاسٹک کے یہ انتہائی معمولی ذرات پریشانی کا باعث ہیں کیونکہ شواہد بتاتے ہیں کہ یہ ذرات ہمارے غذائی چکر میں اپنا راستہ بنارہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ جب کوئی جانور یہ پلاسٹک کھاتا ہے تو ہضم کے عمل سے گزرنے کے بعد یہ ذرات ان کے جسم کے خلیوں میں جگہ بنالیتا ہے۔

تحقیق کاروں نے یہ جاننے کے لیے پلاسٹک کے یہ معمولی ذرات کس حد تک ہمارے سمندروں میں موجود ہیں، بھارت، برطانیہ اور سنگاپور سمیت دنیا کے 18 ساحلوں سے پانی کے نمونے حاصل کیے۔

مسٹر براؤن نے بتایا کہ کسی بھی نمونے میں ایسا نہیں تھا کہ جس میں پلاسٹک کے یہ معمولی ذرات موجود نہ ہوں۔