’اپنا ہدف خود تلاش کرنے والی گولی‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption گولی پر ایل ای ڈی لائٹ لگا کر اس کا راستہِ پرواز دیکھا جا سکتا ہے۔

امریکی فوج کے استعمال کے لیے ایک ایسی گولی بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے جو کہ کسی ہدف کو نشانہ بنانے کے لیے اپنا راستہ خودکار طور پر تبدیل کر سکتی ہے۔

یہ گولی انتہائی چھوٹے پروں کی مدد سے اپنی پرواز کے راستے کا تعین کرتی ہے جس کے ذریعے وہ لیزر سے نشان زدہ اہداف کو نشانہ بنا سکتی ہے۔

یہ گولی تقریباً دو کلومیٹر دور تک نشانہ لگا سکتی ہے۔ ابتدائی تجربات کے مطابق زیادہ فاصلے پر موجود اہداف کو نشانہ بنانے میں اس گولی کی درستگی بڑھتی جاتی ہے۔

ماہرین کے خیال میں یہ گولی نشانہ بازوں کے لیے تو بہترین ہے مگر عوام میں اس کی فروخت پریشان کن ہو سکتی ہے۔

اس منصوبے پر امریکی حکومت کے لیے کام معروف دفاعی ٹھیکےدار لاک ہیڈمارٹن کی ایک شاخ کر رہی ہے۔

اس وقت بنائے گئے ماڈل میں چار انچ کی گولی استعمال ہو رہی ہے جس کی اگلی نوک ایک حساس آلے کی مدد سے لیزر روشنی کو محسوس کر سکتی ہے۔ روشنی کی ان معلومات کو جانچ کر انتہائی چھوٹی موٹروں کی مدد سے اس گولی کے پروں کو ہلایا جاتا ہے جو کہ اس کا راستہ تبدیل کر سکتے ہیں۔

محقق ریڈ جونز کا کہنا تھا کہ ان کی گولی ایک سیکنڈ میں تیس مرتبہ اپنا راستہ بدل سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کا مطلب ہے کہ اگر ایک بار گولی غلط راستہ اختیار بھی کر لے تو اس کو ٹھیک کیا جا سکتا ہے۔

اس منصوبے پر کام کرنے والی ٹیم نے اس گولی کے زمینی اور کمپیوٹر کی مدد سے، دونوں قسم کے ٹیسٹ کیے ہیں۔ اگرچہ ان کا کہنا ہے کہ ابھی اس میں چند مسائل ہیں تاہم انہیں یقین ہے کہ وہ اس گولی کو بنانے میں اور اسے فروخت تک پہنچانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

ماہرین کا کہنا ہے میدانِ جنگ میں اس جدت کی بہت مانگ ہوگی۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ان گولیوں کے لیے خاص قسم کے بارود استعمال کرنا ہوگا۔

رائل یونائئٹڈ سروسز انسٹیٹیوٹ کی سینیئر ریسرچ فیلو الزبتھ کوئنٹانا نے بی بی سی کو بتایا ’لیبیا کے معرکے میں ایک اہم کامیابی گزشتہ معرکوں کے مقابلے میں ہتھیاروں کی بہتر نشانہ بازی تھی۔ نیٹو ہتھیاروں نے ستانوے فیصد اپنے ہدف کو دو میٹر کے فاصلے کے اندر ہی نشانہ بنایا تاہم یہ کامیابی ہوائی ہتھیاروں کے استعمال سے حاصل کی گئی‘۔

ان کا کہنا تھا کہ اس طرز کی گولی زمینی افواج کے لیے انقلابی ثابت ہوگی اور مستقبل میں شہری ہلاکتوں کو کم سے کم کرنے میں مدد کرے گی۔

عام گولیوں کے برعکس یہ گولی اپنے محور پر کم ہی گھومنے کی کوشش کرتی ہے۔ محققین کا کہنا ہے کہ اس گولی رفتار کو بڑھانے کے لیے خاص قسم کے بارود کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔

عموماً چھوٹے حجم کی رائفل گولیاں اپنے محور پر ایک سیکنڈ میں دو ہزار دفعہ تک گھومتی ہیں تاکہ ان کا راستہِ پرواز اور رفتار مستحکم رہے۔ دوسری طرف اس گولی کی پیٹنٹ درخواست میں بتایا گیا ہے کہ اس قدر تیزی سے گھومتی گولیوں کو خودکار طور پر راستہ تبدیل کرنے کی صلاحیت دینے میں جن برقیات کی ضرورت ہے وہ انتہائی پیچیدہ ہیں۔

چنانچہ محققین نے اس گولی کا نقطہِ محور گولی کے اگلے حصہ میں لے جا کر اس کو کم گھومنے اور آسانی سے راستہ تبدیل کرنے کی صلاحیت دے دی۔

رفتار کے معاملے میں اس گولی کی رفتار کو آواز کی رفتار سے دو گنا یعنی چوبیس سو فٹ فی سیکنڈ تک تک پہنچایا جا چکا ہے جو کہ عسکری استعمال کی گولیوں سے ابھی بھی کم ہے۔

تاہم محققین کا کہنا ہے کہ خاص طور پر تیار کردہ بارود کے استعمال سے اس گولی کی رفتار کو بڑھایا جا سکتا ہے۔

اسی بارے میں