’ذیابیطس کی مریض خواتین کا حمل پیچیدہ‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

محققین کا کہنا ہے کہ اگر ایک حاملہ خاتون ذیابیطس کی مریضہ ہو تو بچے میں پیدائشی نقائص ہونے کا خطرہ چار گنا بڑھ جاتا ہے۔

نیوکیسل یونیورسٹی میں کی جانے والی تحقیق میں جو کہ ’ڈایابٹولوگیا‘ نامی جریدے میں شائع کی گئی ہے، شمال مشرقی برطانیہ میں چار لاکھ حاملہ خواتین کا معائنہ کیا گیا۔

پیدائشی نقص جیسے کہ دل کی بیماری یا پھر ریڑھ کی ہڈی کا بڑے ہونا ان پیچیدگیوں میں سے ہیں جن کے خطرات ذیابیطس میں مبتلا حاملہ ماں سے ہو سکتے ہیں۔

قومی سطح پر دی گئی ہدایات کے مطابق حمل کی کوشش کرنے سے پہلے خون میں شوگر کی سطح پر قابو پا لینا چاہیے۔

دونوں قسم کی ذیابیطس ٹائپ ون جو کہ عموماً بچپن میں سامنے آتی ہے اور ٹائپ ٹو جسے کا تعلق عموماً غذا سے ہوتا ہے، دونوں میں خون میں شوگر کی سطح پر قابو پانا مشکل ہو جاتا ہے۔

اس کی وجہ سے حمل میں کافی مسائل ہو سکتے ہیں جیسے کہ اسقاطِ حمل یا نومولود بچے کا وزن بہت زیادہ ہونا۔

ذیابیطس کے بڑھتے ہوئے مرض خاص کر ٹائپ ٹو کی وجہ سے اس معاملے میں تشویش بڑھ رہی ہے۔

محققین نے سنہ 1996 سے لے کر سنہ 2008 تک میں 401،149 حاملہ خواتین کا معائنہ کیا جن میں سے 1،677 خواتین ذیابیطس کے مرض میں مبتلا تھیں۔

اُن خواتین میں جن میں پہلے سے ذیابیطس نہ ہو ان کے حمل میں پیدائشی نقائص کے خطرات کی شرح ہزار میں سے اُنیس ہوتی ہے مگر یہی شرح ذیابیطس میں مبتلا حاملہ خواتین میں ہزار میں سے بہتر تک پہنچ جاتی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ خون میں شوگر کی سطح پیدائشی نقائص کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہیں جنہیں قابو کیا جا سکتا ہے۔

اس تحقیق کی رہنماء ڈاکٹر روتھ بل نے نیوکیسل یونیورسٹی سے بی بی سی کو بتایا ’ان نقائص کی عموماً ابتداء شروع کے چار سے چھ ہفتوں میں ہو جاتی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ خون میں شوگر کی سطح پر بے قابو حمل کی تعداد بہت زیادہ ہے اور یہ عموماً تب ہوتا ہے جب حمل کے بارے میں منصوبہ بندی نہ کی گئی ہو اور لوگوں کو پتا ہے نہ ہو کہ انہیں اس سلسلے میں اپنے ڈاکٹر سے بات کرنی چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اچھی خبر یہ ہے کہ اگر حمل سے پہلے اور اس کے دوران کسی ماہر کی مدد لی جائے تو اکثر ذیابیطس میں مبتلا خواتین ایک صحت مند بچے کو پیدا کر سکتی ہیں۔

اس تحقیق کو ’ڈائیبٹیز یو کے‘ نامی فلاحی تنظیم کی امداد سے کیاگیا۔

اسی بارے میں