الزائمر کے جراثیم کے خاتمہ کا کامیاب تجربہ

تصویر کے کاپی رائٹ SPL
Image caption الزائمر کا مرض حافظہ کے مسائل کو جنم دیتا ہے جس سے سوچنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے

ایک تحقیق میں چوہوں پر کینسر کے علاج کے لیے ایک دوا کے استعمال سے الزائمر کے تباہ کن جراثیم تیزی سے ختم ہوگئے۔

جرنل سائنس جریدے میں شائع ہونے والی امریکی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ دوا کے استعمال سے چوہوں میں تباہ کن جراثیم غیر متوقع تیزی کے ساتھ ختم ہوتے گئے۔ اس تحقیق کے دوران یہ بھی معلوم ہوا کہ دوا کے استعمال سے دماغ کے افعال میں بھی بہتری آئی۔

تاہم سائنسدانوں کا کہنا ہے اگرچہ یہ نتائج امید افزاء ہیں مگر چوہوں پر کارگر ہونے والی اکثر دوائیں انسانوں پر اثر انداز نہیں ہوپاتیں۔

الزائمر کا اصل سبب اب تک معلوم نہیں ہوسکا ہے لیکن خیال کیا جاتا ہے کہ یہ ایک پروٹین کے جمع ہونے سے ہوتا ہے جسے بِیٹا ایملوئڈ کہتے ہیں۔ دماغ میں یہ جمع شدہ ذخیرہ آخر کار حافظہ کے مسائل کو جنم دیتا ہے جس سے سوچنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔

الزائمر پر تحقیق کرنے والوں کی توجہ پروٹین کے جراثیم کو ختم کرنے پر لگی رہی ہے اور اس سلسلے میں انسانوں پر بھی تجربات کیے گئے ہیں۔

تحقیق کے دوران جلد کے کینسر کے علاج کی ایک دوا بیکساروٹین کو چوہوں پر استعمال کیا گیا جن میں الزائمر سے ملتی جلتی بیماری تھی۔

کم عمر چوہوں میں اس دوا کے استعمال سے بِیٹا ایمولوئڈ کی سطح محض چھ گھنٹے میں کم ہوگئی اور اگلے ستّر گھنٹے میں یہ سطح پچیس فیصد تک گِر چکی تھی۔

زیادہ عمر کے چوہوں میں ایملوئڈ کی مقدار بھی زیادہ تھی لیکن سات روز کے علاج سے ان کے دماغ میں ایملوئڈ کی سطح نصف رہ گئی۔ تحقیق کے مطابق اس دوا کے استعمال سے دماغی افعال میں بھی بہتری آئی اور حافظہ میں بھی اضافہ ہوا۔

تحقیق میں شامل ایک سائنسدان پیج کریمر کا کہنا ہے ’ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا۔ اس سے پہلے چوہوں پر کی جانے والی تحقیق میں ایملوئڈ کی سطح کو کم کرنے میں کئی مہینے لگے۔‘

پیج کریمر کے ساتھی سائنسدان پروفیسر گیری لینڈرتھ کا کہنا ہے کہ یہ تحقیق بلاشبہ جوش دلانے والی اور اطمینان بخش ہے تاہم انہوں نے زور دیا کہ یہ تحقیق ابھی ابتدائی مراحل میں ہے۔

انہوں نے لوگوں کو خبردار کیا کہ وہ اپنے طور پر اس دوا کو مت لیں کیونکہ الزائمر کے علاج کے لیے اب تک یہ دوا انسانوں کے لیے مفید ثابت نہیں ہوئی ہے اور نہ ہی یہ معلوم ہوا ہے کہ انسانوں کو یہ دوا کتنی مقدار میں لینی ہے۔

’ابھی ہمیں اس بارے میں ابہام دور کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ دوا چوہوں پر بہت اچھا اثر ڈال رہی ہے اور اب ہمارا اگلا قدم یہ ہوگا کہ ہم یہ معلوم کریں کہ آیا یہ دوا انسانوں پر بھی اتنی ہے کارگر ہے۔‘

سائنسدانوں کا یہ گروپ اب انسانوں کے ایک چھوٹے گروپ پر تجربات کرے گا تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ یہ دوا انسانوں پر کس قدر اثر انداز ہوتی ہے۔

اسی بارے میں