برڈ فلو تحقیق، اشاعت پر فیصلہ ملتوی

تصویر کے کاپی رائٹ Science Photo Library
Image caption برڈ فلو، انفلوئنزا کی سب سے خطرناک اقسام میں سے ایک ہے

عالمی ماہرین نے برڈ فلو کے وائرس، ایچ فائیو این ون پر حال ہی میں کی جانے والی تحقیق شائع کرنے پر فیصلہ ملتوی کر دیا ہے۔

عالمی ادارۂ صحت کے ہیڈکوارٹر میں ہونے والی بات چیت کے دوران ماہرین اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ اس تحقیق کو کس طرح ایسے شائع کیا جائے کہ اس سے دہشتگرد فائدہ نہ اٹھا سکیں۔

سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں ہونے والے مذاکرات میں یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ اس بات پر مزید بحث کی ضرورت ہے کہ اس تحقیق کو مکمل حالت میں شائع کیا بھی جا سکتا ہے یا نہیں۔

یہ تحقیق شائع کرنے کے متمنی دو سائنسی جریدوں میں سے ایک نے فیصلے تک اسے شائع نہ کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔

اس تحقیق کے مطابق محققین برڈ فلو کے وائرس میں ایسی تبدیلیاں کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں جن کے نتیجے میں اب یہ وائرس، پہلے سے کہیں زیادہ آسانی سے وباء کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

عالمی ادارۂ صحت کی جانب سے اس حالیہ تحقیق کے نتائج کے بارے میں سخت تشویش کا اظہار کیے جانے کے بعد امریکہ کے قومی سلامتی کے مشاورتی بورڈ نے بھی سائنس اور نیچر نامی جریدوں کو گزشتہ برس نومبر میں کہا تھا کہ وہ اس کے حساس حصے شائع نہ کریں۔

برڈ فلو، انفلوئنزا کی سب سے خطرناک اقسام میں سے ایک ہے جس کی زد میں آنے والے جانداروں میں سے ساٹھ فیصد کی موت واقع ہو جاتی ہے۔

ڈبليو ایچ او عام طور پر طبی میدان میں نئی معلومات کا خیر مقدم کرتا ہے لیکن وہ اس معاملے پر شدید فکرمند ہے۔

ادارے کا کہنا ہے کہ کوئی بھی تحقیق ، جس میں ایچ فائیو این ون کی کوئی خطرناک قسم تیار ہو سکتی ہے ، نئے خطرات پیدا کر سکتی ہے ، اور اسے اس وقت تک آگے نہیں بڑھانا چاہیے جب تک عام لوگوں کی صحت سے متعلق سارے خدشات کا حل نہ ڈھونڈ لیا جائے۔

امریکی حکومت کی کمیٹی نیشنل سائنس برائے حیاتیاتی سکیورٹی نے اس خدشے کا اظہار کیا تھا کہ وائرس سے متعلق معلومات کو حیاتیاتی ہتھیاروں کی تیاری میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔

اسی بارے میں