مرد ناپید نہیں ہوں گے: تحقیق

تصویر کے کاپی رائٹ SPL
Image caption وائی کروموسوم کے خاتمے کا اندازہ اس کے جنیز کے معدوم ہونے کی رفتار سے لگایا گیا تھا۔

ایک نئے مطالعے کے مطابق دنیا سے مردوں کے ناپید ہونے کا خطرہ باقی نہیں رہا ہے۔

اس سے پہلے کیے گئے جائزوں کے مطابق’وائی‘ سیکس كروموسومز جو صرف مردوں میں پائے جاتے ہیں جنیاتی طور پر تیزی سے کم ہو رہے ہیں اور آئندہ پچاس لاکھ سال میں یہ مکمل طور پر ختم ہو جائیں گے۔

كروموسوم کے اندر یہ جین ایک ’سوئچ‘ کی طرح کام کرتے ہیں جس سے خصیہ کی نشوونما ہوتی ہے اور مردوں کے ہارمون کا اخراج ہوتا ہے۔

لیکن ’نیچر‘ کے نئے مطالعہ کے مطابق كروموسوم کی یہ تباہی تقریباً تھم چکی ہے۔

آسٹریلیا کی نیشنل یونیورسٹی کے پروفیسر جینیفر گریوس نے پہلے بتایا تھا کہ وائی كروموسوم پچاس لاکھ سال میں مکمل طور پر ختم ہو جائیں گے۔ یہ اندازہ کروموسومز سے ’جینز‘ کے معدوم ہونے کی رفتار سے لگایا گیا تھا۔

جینیٹک سائنس کے پروفیسر برائن سائكس نے دو ہزار تین میں شائع ہونے والی اپنی کتاب ’ایڈمز كرس: مرد کے بغیر مستقبل‘ میں لکھا تھا کہ ایک لاکھ سال میں ہی وائی كروموسومز تباہ ہو جائیں گے۔

اس پیشن گوئی کی بنیاد ایکس اور وائی كروموسوم کا تقابلی مطالعہ تھا۔

خیال کیا جاتا تھا کہ دودھ پلانے والے جانداروں کی ابتدائی تاریخ میں ایکس اور وائی كروموسوم ایک جیسے تھے لیکن اب ایکس كروموسوم میں تقریباً آٹھ سو جینز ہیں جبکہ وائی كروموسوم میں صرف اٹھتہر جین ہیں۔

كیمبرج کے وائٹ ہیڈ انسٹیٹیوٹ کی جینیفر ہیگس اور ان کے ساتھیوں نےجاننا چاہا کہ کہیں وائی كروموسوم کے زوال کی کہانی بڑھا چڑھا کر تو بیان نہیں کی جا رہی۔

دو ہزار پانچ میں نیچر ہی میں چھپنے والے انسان اور چیمبینزی کے وائی كروموسوم کا تقابلی جائزے میں لکھا گیا تھا کہ انسان اور چیمپینزی کی نسل ساٹھ لاکھ سال پہلے الگ ہو گئی تھی۔

اپنے تازہ مطالعے میں انہوں نے شمالی ہند کے بھورے بندر کے وائی كروموسومز کا جائزہ لیا ہے جس کی نسل ڈھائی کروڑ سال پہلے انسان سے مختلف ہو گئی تھی۔

ان دونوں جائزوں کے تقابلی تجزیے سے یہ پتہ چلتا ہے کہ جینیاتی زوال میں حالیہ تاریخ کے دوران کمی آئی ہے۔

انسان کے كروموسوم نے گزشتہ ساٹھ لاکھ سال میں کوئی بھی جین نہیں گنوایا ہے جبکہ گزشتہ ڈھائی کروڑ سال میں انسان نے صرف ایک جین کھویا ہے۔

جینیفر ہیگس نے بی بی سی کو بتایا ’جین کا زوال شاید رک گیا ہے اور وائی كروموسوم کہیں نہیں جا رہے۔ ہم اس بات کو پوری طرح خارج از امکان تو قرار نہیں دے رہے لیکن تاحال جو جینز وائی کروموسوم میں موجود ہیں وہ باقی رہیں گے۔‘

زیادہ تر انسان کے خلیوں میں كروموسوم کے تئیس سیٹ ہوتے ہیں جن میں ایک جوڑا سیکس كروموسوم کا ہوتا ہے۔

خواتین کے سیٹ میں دو ایکس كروموسوم ہوتے ہیں جب کہ مردوں میں ایک ایکس اور ایک وائی كروموسوم ہوتا ہے۔ وائی كروموسوم میں موجود ایک جین ہی جنین میں مردوں کے خصیہ کی ترقی اور ہارمون کے اخراج کا ذمہ دار ہوتا ہے۔

وائی كروموسوم کے جینیاتی خاتمے کی وجہ بتاتے ہوئے ڈاکٹر ہیگس بتاتی ہیں ’ایکس کو کوئی خطرہ نہیں ہے کیونکہ خواتین میں اسے دوسرے ایکس كروموسوم کے ساتھ جڑنے کا موقع ملتا ہے۔ لیکن وائی كروموسوم کو دوسرے وائی سے جوڑنے کا موقع نہیں ملتا ہے جس سے وائی كروموسوم زوال کے عوامل کے لیے حساس ہو جاتا ہے۔‘

اسی بارے میں