جنسی تعلق سے محروم، شرابی مکھیاں

تصویر کے کاپی رائٹ ap

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ جنسی تعلق سے محروم نر مکھیاں بڑی مقدار میں شراب کا استعمال کرتی ہیں۔

ایک تحقیق کے مطابق ایسی مکھیاں الكوہل کا استعمال زیادہ کرتی ہیں جن سے اُن کی مادہ ساتھی جنسی تعلق قائم نہیں کرتیں۔

سائنس میگزین میں شائع ایک مضمون میں محققین کا کہنا ہے کہ شراب ان مکھیوں کے دماغ میں ویسی ہی تحریک پیدا کرتی ہے جیسی کے جنسی تعلق پیدا کرتا ہے۔

سائنسدانوں کے مطابق اس کے لیے دماغ میں پایا جانے والا نيورو پیپٹائڈ ایف نامی کیمیائی مادہ ذمہ دار ہے جو شاید اس معاملے میں مكھيوں کے رویے سے کنٹرول ہوتا ہے۔

امریکہ کے ورجینیا میں واقع ہارورڈ میڈیکل انسٹیٹیوٹ کے سائنسدان شوہٹ اوفر کا کہنا ہے کہ صلہ یا بدلہ لینے والے اس کیمیائی مادّے اور سماجی اثرات کے درمیان تعلقات کا مطالعہ کیا جا رہا ہے۔

’ادویات کے بجائے ہم نے شراب کا استعمال کیا کیونکہ یہ ایک ایسی چیز ہے جو کہ صلے کے حصول کے جذبے کو کافی زیادہ متاثر کرتی ہے۔‘

تجربے کے دوران کچھ نر مكھيوں کو پانچ کنواری مادہ مكھيوں کے ساتھ ایک ڈبے میں بند کرکے رکھا گیا۔ یہ مكھياں نروں کی طرف متوجہ ہوگئیں۔

جبکہ دوسرے تجربے میں نر مكھيوں کو ان مادہ مكھيوں کے ساتھ رکھا گیا جو کہ پہلے سے ہی جماع کر چکی تھیں۔ ان مكھيوں نے نر مكھيوں کی جانب سے جنسی تعلق کی کوشش کو مسترد کر دیا۔

اس کے بعد جب نر مكھيوں کے کھانے میں شراب مقدار پندرہ فیصد بڑھا دی گئی تو ان مكھيوں نے اسے مسترد کر دیا جنہوں نے مادہ مكھيوں کے ساتھ جنسی تعلق قائم کیا تھا۔ جبکہ جنسی تعلق سے محروم نر مكھيوں نے شراب ملے کھانے کی طرف بہت زیادہ توجہ دی۔

محققین نے پایا کہ رویے میں اس تبدیلی کے لئے نيوروپیپٹائڈ نامی کیمیکل ذمہ دار ہے۔

اس تجربے میں یہ بھی پایا گیا کہ سیکس سے محروم اور بھاری مقدار میں شراب پینے والی نر مكھيوں میں اس کیمیکل کی سطح کم تھی جبکہ جنسی تعلق سے خوش نر مكھيوں میں اس کی شرح بڑھی ہوئی تھی۔

سائنسدانوں کا خیال ہے کہ انسانی دماغ میں بھی یہ کیمیکل پایا جاتا ہے اور ہو سکتا ہے کہ اس میں بھی یہ اسی طرح سے کام کرتا ہو۔ انسانی میں پائے جانے والے اسی کیمیکل کو نيوروپیپٹاڈ وائی کہتے ہیں۔

شراب اور اس کیمیائی مادّے کے درمیان اس تعلق کا مطالعہ بہت زیادہ شراب پینے والے چوہے پر بھی ہو چکا ہے۔

بعض سائنسدان اس بات سے متفق نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مكھيوں میں اس تبدیلی کو سمجھا جا سکتا ہے لیکن انسانی رویے میں اس کیمیکل کی وجہ سے تبدیلی ابھی ثابت نہیں ہوئی ہے۔

اسی بارے میں