مردوں میں گنجے پن کی وجہ دریافت

امریکی سائنسدانوں نے مردوں میں گنجے پن کی سائنسی وجہ کی تلاش کرنے کا دعوی کیا ہے۔

یہ امید بھی ظاہر کی گئی ہے کہ اس تحقیق سے گنجے پن کو روکنے کا علاج اور یہاں تک کہ بال کو دوبارہ اگانا بھی ممکن ہو سکے گا۔

گنجے مردوں اور لیبارٹری میں چوہوں پر کئے گئے مطالعے میں امریکی سائنسدانوں نے ایک پروٹین کا پتہ لگایا ہے جو کہ بالوں کے جھڑنے کے لئے ذمہ دار ہوتی ہے۔

سائنس ٹرانسلیشنل میڈیسن نامی میگزین میں شائع رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گنجے پن کو روکنے کے لئے دواؤں کی تلاش بھی جاری ہے۔ اس تحقیق سے حاصل ہونے والے نتائج کی بنیاد پر گنجے پن کو روکنے کے لئے ایک کریم بھی بنائی جا سکتی ہے۔

زیادہ تر مردوں میں گجا پن وسطی عمر میں ہوتا ہے، جبکہ تقریبا اسّی فیصد مردوں میں ستر سال تک کی عمر میں بھی معمولی سے ہی بال جھڑتے ہیں۔

اس معاملے میں مرودوں میں پایا جانے والا ٹیسٹوسٹيرون نامی ہارمون اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ان کی وجہ سے بالوں کے غدود سکڑ جاتے ہیں اور دھیرے دھیرے اتنے چھوٹے ہوجاتے ہیں کہ انہیں دیکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔

یہی صورت حال بعد میں گنجے پن میں تبدیل ہو جاتی ہے۔

تاہم اب پینسلوینيا یونیورسٹی کے محققین یہ جاننے کی کوشش کررہے ہیں کہ جب انسان میں گنجے پن کا آغاز ہوتا ہے تو کون سا مخصوص جین اس کے لئے ذمہ دار ہوتا ہے۔

محققین نے پایا کہ پروسٹاگلیڈن ڈی سینتھیز نامی ایک خاص قسم کا پروٹین سر پر گنج کے مقام پر موجود بالوں کے غدود والے خلیوں میں موجود تھے۔ یہ پروٹین بالوں والی جگہ پر نہیں تھا۔

چوہوں پر کئی گئی تحقیق کے دوران جب ان کی خوراک میں یہ پروٹین شامل کیا گیا تو وہ مکمل طور پر گنجے ہوگئے جبکہ جن چوہوں پر انسانی بال مصنوعی طریقے سے اگائے گئے تھے ان کے بال اگنا بند ہوگئے۔

تحقیق کی قیادت کر نے والے پروفیسر جارج كوٹساریلس بتاتے ہیں ’ بنیادی طور پر ہم نے دیکھا کہ پوسٹاگلینڈن پروٹین مردوں کے سر پر گنج کی جگہ جمع ہوتی ہے اور یہ بالوں کی نشوونما کو روک دیتی ہے۔ پس ہم نے مردوں میں گنجے پن کی وجہ دریافت کر لی ہے۔ ‘

محققین کا کہنا ہے کہ اس بات کی پوری امید ہے کہ سر کی کھال پر لگانے والی ایسی دوا بنائی جا سکتی ہے جس سے گنجے پن کو روکا جا سکے اور جھڑے ہوئے بال دوبارہ پیدا کر سکیں۔

اسی بارے میں