معلومات چوری ہونے پر صارفین کو وراننگ

تصویر کے کاپی رائٹ PA

کریڈٹ کارڈ جاری کرنے والی دنیا کی تین بڑی کمپنیوں ویزا، ماسٹر کارڈ اور ڈسکور نے معلومات چوری ہونے پر اپنے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ ان کی ذاتی معلومات کو خطرہ ہو سکتا ہے۔

سکیورٹی بلاگ کرپس آن سکیورٹی جس نے سب سے پہلے معلومات چوری ہونے کی خبر دی تھا، نے کہا ہے کہ ذرائع کے مطابق ایک کروڑ کارڈز کی معلومات چوری ہوئیں ہیں۔

اطلاعات ہیں کہ یہ معلومات، امریکہ کے شہر نیو یارک میں چوری کی گئیں جس کے نتیجے میں امریکہ ہی کے زیادہ تر صارفین کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

یہ تینوں کمپنیاں کئی بین الاقوامی بینکوں کے کھاتوں تک، صارفین کی رسائی کے لیے ڈیبٹ کارڈ بھی جاری کرتی ہیں۔

کمپنیوں کا کہنا ہے کہ کارڈز کی معلومات کی چوری اُن کی شریک چوتھی کمپنی کے نظام میں کمزوری کے باعث ہوئی جس کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

وال سٹریٹ جرنل نے ذرائع کے حوالے سے خبر دی ہے کہ کارڈ پروسیسنگ کمپنی گلوبل پے منٹس سے معلومات چوری ہوئی ہیں، اس خبر کے بعد بازارِ حصص میں کمپنی کے شیئرز میں نو فیصد گراؤٹ ہوئی ہے۔

متعدد بار درخواست کے باوجود گلوبل پے منٹس کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

دوسری جانب کریڈٹ کارڈ جاری کرنے والی تینوں کمپنیوں نے متاثر ہونے والے صارفین کی تعداد کے بارے میں نہیں بتایا ہے۔

ڈسکور فنانشل سروسز نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ کھاتوں کی نگرانی کر رہی ہے اور اگر ضرورت پڑی تو کارڈز دوبارہ جاری کیے جائیں گے۔

ماسٹر کارڈ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ’جب بھی صارفین کو کوئی مشکل پیش آتی ہے تو ہمیں اس پر تشویش ہوتی ہے، ہم نے صورتحال پر نظر رکھی ہوئی ہے اور صارفین کے اکاؤنٹس کو محفوظ بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔‘

اسی بارے میں