فوجیوں کیلیے برقی دھاگے سے بُنی یونیفارم

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سنٹر فار ڈفنس اینٹرپرائز کا مقصد فوجیوں پر سے جسمانی وزن اور ذہنی دباؤ کی کمی ہے۔

برطانوی فوجیوں کی وردیوں میں جلد ہی ایسا دھاگا استعمال کیا جا سکتا ہے جس میں سے برقی رو گزر سکتی ہے۔ اس دھاگے کے استعمال سے فوجیوں کو بھاری بیٹریوں اور تاروں کے وزن سے نجات مل جائے گی۔

’ای ٹیکسٹائل‘ یا برقی دھاگے سے بُنے ہوئے کپڑے کی وردیوں میں صرف ایک مرکزی بیٹری کی ضرورت ہوگی اور فوجیوں کو صرف اس ایک ہی بیٹری کو ریچارج کرنا ہوگا۔

’انٹیلیجنٹ ٹیکسٹائل‘ نامی کمپنی نے کم وزن کی اس وردی کو سنٹر فار ڈیفنس اینٹرپرائز کے زیرِ اہتمام ایک نمائش میں متعارف کروایا۔

کمپنی نے کپڑوں میں پیچیدہ برقی دھاگوں کے بُننے کے کئی طریقوں کے جملہ حقوق خرید رکھے ہیں۔

انٹیلیجنٹ ٹیکسٹائل کی ڈائریکٹر آشا تھامپسن نے بی بی سی کو بتایا کہ روایتی تاروں میں ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ تار ٹوٹنا کافی نقصان دہ ہو سکتا ہے جبکہ ہمارے کپڑے سے بنائی گئی وردی میں تو متبادل طریقوں سے کام پورا کیا جا سکتا ہے۔

کمپنی کو سنٹر فار ڈیفنس اینٹرپرائز کی جانب سے دو لاکھ چونتیس ہزار پونڈ ملے ہیں۔ اس سنٹر کا ہدف فوجیوں پر سے جسمانی وزن اور ذہنی دباؤ کی کمی ہے۔

فی الحال فوجیوں کو مختلف آلات کے لیے مختلف بیٹریوں کا استعمال کرنا پڑتا ہے جو وزن اور قیمت دونوں کو بڑھاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک مرکزی بیٹری کو پسند کیا جاتا ہے۔

کپڑے کے اندر ہی بنُے برقی دھاگے کی وجہ سے تاروں کےگنجلک ہونے کا مسئلہ بھی ختم ہو جاتا ہے۔

آشا تھامپسن کا کہنا تھا کہ ’ہم نے اس کپڑے کو قمیض، ہیلمٹ، دستانوں اور وردی کے دوسرے حصوں میں استعمال کیا ہے۔‘

تاہم نمائش کیے گئی وردی میں جو ’پلگ اینڈ پلے‘ کنیکٹرز استعمال ہوئے ہیں وہ شاید اس کی حتمی شکل میں نہ ہوں۔ اس وجہ یہ بھی ہے کہ انہیں زنگ آلودگی سے بچانے کا ابھی انتظام نہیں کیا گیا اور وردی کو فوج کے پاس پہلے سے موجود پرانے آلات کو بھی چلانا ہوگا۔

دوسری جانب کپڑے کا ایک کی بورڈ بھی بنایا جا رہا ہے جو کہ وردی کا ہی ایک جز ہوگا۔

کمپنی اس وردی کو آئندہ ماہ میدانِ جنگ میں ٹیسٹ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے تاہم اس کے وسیع تر استعمال میں ابھی کچھ وقت درکار ہے۔

اسی بارے میں