’کرۂ ارض کو بچائیں‘، سائنسدانوں کی اپیل

تصویر کے کاپی رائٹ ESO M.KORNMESSER
Image caption ’پانی اور توانائی کو ایک دوسرے سے انتہائی جڑا مسئلہ سمجھا جائے‘

عالمی سائنسی برادری کے رہنماؤں نے دنیا کے آٹھ بڑے ترقی یافتہ ممالک کے سربراہوں کے نام مشترکہ بیانات جاری کیے ہیں جو رواں ہفتے امریکہ میں ملاقات کر رہے ہیں۔

دنیا کے پندرہ ممالک کے سائنس کے قومی اداروں نے اپنے تین بیانات میں بڑی صنعتی معیشتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سائنس اور ٹیکنالوجی پر زیادہ توجہ دیں۔

ان اداروں کا تعلق امریکہ ،چین ، بھارت اور برطانیہ سے ہے۔

سائنس اکیڈمیز کے پہلے بیان میں زور دیا گیا ہے کہ پانی اور توانائی کو ایک دوسرے سے انتہائی جڑا مسئلہ سمجھا جائے بصورت دیگر دونوں کی قلت ہو گی۔

بیان میں حکومتوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ اس سلسلے میں عالمی اور علاقائی تعاون کی حوصلہ افزائی کریں۔

دوسرے بیان میں کہا گیا ہے کہ سونامی یا جوہری حادثے جیسی بڑی بین الاقوامی تباہی کے اثرات کم کرنے کیلئے مزید اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔

تیسرے بیان میں انسانی اور قدرتی وسائل کے تخمینے اور گرین ہاؤس گیسوں کے خاتمے کیلئے زیادہ درست اور معیاری طریقے اپنانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

امریکہ کی نیشنل اکیڈمی آف سائنسز کے ڈاکٹر مائیکل کلیگ کے مطابق ’طویل مدتی خدشات میں ماحول کا ایسا انتظام کرنا ضروری ہے تاکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی وہی معیار زندگی یقینی ہو جو آج ہمیں حاصل ہے‘۔

گزشتہ سات برسوں سے جی ایٹ سربراہ اجلاس میں شرکت کرنے ممالک کی سائنس اکیڈمیز مندوبین کو سائنس و ٹیکنالوجی کے اہم معاملات پر آگاہ کرنے کیلئے بیانات جاری کر رہی ہیں۔

اس سال یہ اکیڈمیز کا ہدف نہ صرف جی ایٹ سربراہ اجلاس میں شرکت کرنے والے سربراہان بلکہ جی ٹوئنٹی، ریو + ٹوئنٹی ماحولیاتی سربراہ اجلاس اور دیگر اہم اجلاس بھی ہیں۔

اس سے پہلے ہونے والے جی ایٹ سربراہ اجلاسوں میں ان اکیڈمیز کی رائے کو اہمیت حاصل رہی ہے اور سربراہ اجلاسوں کے اعلامیے میں سائنس اکیڈمیز کے بیانات کو بھی جگہ ملی ہے۔

ان بیانات پر امریکہ ،چین ، بھارت ، برطانیہ، برازیل ، کینیڈا ، فرانس ، جرمنی ، انڈونیشیا ، اٹلی ، جاپان ، میکسیکو ، روس ، جنوبی افریقہ اور مراکش کی نیشنل سائنس اکیڈمیز کے رہنمائوں نے دستخط کیے ہیں۔

اسی بارے میں