خلاء میں مقناطیسی توانائی کا اخراج

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption سپر فلیئر سورج جیسے سست روی سے گردش کرنے والے ستاروں پر بہت کم ہوتا ہے۔

امریکہ کے خلائی تحقیق کے ادارے ناسا کی خلائی دوربین کیپلر نے خلا میں ہولناک دھماکوں کے بارے میں نئی معلومات فراہم کی ہیں جن سے کچھ ستاروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

ان معلومات سے ظاہر ہوتا ہے کہ بڑے پیمانے پر مقناطیسی توانائی کے اخراج سے جسے سپر فلیئر کا نام دیا گیا ہے، قریبی مدار میں چکر لگانے والے سیارے کو نقصان پہنچ سکتا ہے جس سے وہاں زندگی کے ممکنہ آثار خطرے میں پڑ جائیں گے۔

کیپلر خلائی دوربین نے ایک سو بیس دن کے مشاہداتی عرصے کے دوران مجموعی طور پر تین سو پینسٹھ سپر فلیئرز دیکھے اور ان نئے مشاہدات کی تفصیل جریدے نیچر میں شائع کی گئی ہیں۔

کیپلر کے مطالعہ کے مطابق خوش قسمتی سے سپر فلیئر کا سورج جیسے سست روی سے گردش کرنے والے ستاروں پر بہت کم اثر ہوتا ہے۔

سورج پر اب تک ریکارڈ کیا جانے والا سب سے بڑا فلیئر غالباً یکم ستمبر سترہ سو انسٹھ کا ’ کارنگٹن ایونٹ‘ ہے جس سے زمین کی جانب برقی مقناطیسی تابکاری اور برقی ذرات پھیلے تھے۔

امریکی خلائی تحقیق کے ادارے کی یہ دوربین اس وقت آسمان پر زمین سے چھ سو سے تین ہزار نوری سال کے فاصلے پر واقع ایک لاکھ ستاروں پر نظر رکھے ہوئے ہے۔

اسی بارے میں