نجی خلائی کپمنی کا پہلا مِشن

خلائی مِشن تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ناسا امید کرتی ہے کہ اس طرح کام کرنے سے وہ اخراجات میں کمی کر سکیں گے اور انہیں موقع ملے گا کہ وہ زمین سے اور زیادہ دور مثلاً مریخ پر جانے کے مشن کی منصوبہ بندی کر سکیں

کیلیفورنیا کی کمپنی ’سپیس ایکس‘ نے خلاء میں بین الاقوامی خلائی سٹیشن کے لیے تقریباً آدھا ٹن سازوسامان بھیجنے کے لیے اپنا پہلا خلائی جہاز ’ڈریگن‘ لانچ کر دیا ہے۔

یہ کسی بھی نجی کمپنی کی جانب سے خلاء ساز و سامان کی ترسیل کا پہلا موقع ہے۔

اس جہاز کو سپیس ایکس کے خود تیار کردہ راکٹ ’فیلکن 9‘ کے ذریعے خلاء میں بھیجا گیا۔ یہ جہاز صرف ساز و سامان سے لدا ہوا ہے اور اس میں کوئی فرد سوار نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ڈریگن جہاز ایک کیپسول کی شکل کا ہے۔

یہ پرواز فلوریڈا میں واقع ایئر فورس سٹیشن سے مقامی وقت کے مطابق پونے چار بجے شروع ہوئی۔ یہ جہاز ابتدائی دس منٹ میں زمین سے تقریباً تین سو چالیس کلومیٹر کی بلندی پر پہنچ گیا۔

خلائی جہاز ڈریگن نے راکٹ سے علیحدہ ہونے کے چند لمحوں بعد ہی اپنے شمسی توانائی کے پینل کھول لیے۔

ڈریگن خلائی جہاز کو بین الاقوامی خالائی سٹیشن تک پہنچنے میں چند روز لگیں گے۔ جمعرات کے روز بین الاقوامی خلائی سٹیشن سے تقریباً ڈھائی کلومیٹر کی دوری پر پہنچ کر ڈریگن خلائی جہاز کو اپنی جہاز رانی اور زمین سے رابطے کی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ اگر یہ تجربات کامیاب رہے تو جمعے کے روز ڈریگن کو بین الاقوامی خلائی سٹیشن سے دس میٹر کے فاصلے پر لے جایا جائے گا جہاں خلاباز اسے ایک روباٹک بازو کی مدد سے پکڑ کر خلائی سٹیشن سے منسلک کر دیں گے۔

ڈریگن سے پانچ سو کلوگرام کا ساز و سامان اتار لیا جائے گا جس میں کھانے پینے کی اشیاء بھی شامل ہیں۔ اس ماہ کے آخر تک ڈریگن جہاز زمین پر واپس آ جائے گا۔

Image caption خلاباز ڈریگن کو ایک روباٹک بازو کی مدد سے پکڑ کر خلائی سٹیشن سے منسلک کر دیں گے

یہ مشن بہت اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اس سے امریکہ کے خلائی آپریشن کرنے کے انداز میں بڑی تبدیلی ظاہر ہوتی ہے۔

امریکہ کی سرکاری خلائی ایجنسی ناسا کی کوشش ہے کہ معمول کے خلائی آپریشن نجی کمپنوں کے حوالے کر دیے جائیں۔

سب سے پہلے ساز و سامان لے جانے کا کام اور پھر اس دہائی کے آخر تک خلا بازوں کو لے جانے اور واپس لانے کا کام نجی کمپنیوں کو دے دیا جائے گا۔

ناسا امید کرتی ہے کہ اس طرح کام کرنے سے وہ اخراجات میں کمی کر سکیں گے اور انہیں موقع ملے گا کہ وہ زمین سے اور زیادہ دور مثلاً مریخ پر جانے کے مشن کی منصوبہ بندی کر سکیں۔

ناسا نے سپیس ایکس کے لیے چند مرحلہ وار اہداف رکھے ہیں اور ان کے پورے ہونے پر ہی بین الاقوامی خلائی سٹیشن تک سازو سامان کی ترسیل کا ایک اعشاریہ چھ ارب روپے کا ٹھیکہ انہیں مل سکے گا۔

اسی بارے میں