پولیو کا خطرہ: عالمی ہنگامی حالت کا اعلان

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption گزشتہ دو سال میں تین براعظموں یورپ، افریقہ اور ایشیا میں اس بیماری کا پھیلاؤ دیکھا گیا ہے

پولیو کے خاتمے کے لیے عالمی مہم نے پاکستان سمیت کئی ممالک میں دوبارہ پولیو کے مریض سامنے آنے کے بعد عالمی سطح پر اس بیماری کے لیے ہنگامی حالت کے نفاذ کا اعلان کر دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بیماری بھرپور انداز میں واپس آ سکتی ہے۔

مہم نے نائجیریا، پاکستان اور افغانستان میں پولیو کے خاتمے کی مہم کو تیز کرنے کے لیے ایک منصوبہ کا بھی آغاز کیا ہے۔ یہ وہ ممالک ہیں جہاں پولیو اب بھی پائی جاتی ہے۔

پاکستان میں پولیو کے خاتمے کے لیے بڑے پیمانے پر اگرچہ کام جاری ہے تاہم اس سال بھی اب تک پولیو کے سولہ مریض سامنے آئے ہیں جن میں سات کا تعلق قبائلی علاقوں اور چار کا تعلق صوبہ خیبر پختونخواہ سے ہے۔

مہم ناکام ہوئی تو پولیو پر قابو مشکل ہے: شہناز وزیر علی

پاکستان بھی ایک ایسا ہی ملک ہے اور اس کے صوبہ خیبر پختونخوا میں حکام کے مطابق انیس ہزار بچوں کے والدین نے پولیو سے بچاؤ کی حالیہ مہم کے دورن اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے سے انکار کیا ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق کچھ ممالک میں داخلی حالات اور ویکسینیشن پر عدم اعتماد کی وجہ سے بچے پولیو کی دوائی پینے سے محروم رہتے ہیں۔

ادارے کے مطابق اس وقت نہ صرف دنیا کے تین ممالک پاکستان، افغانستان اور نائجیریا میں باقاعدگی سے پولیو کے نئے مریض سامنے آ رہے ہیں بلکہ ایسے ممالک میں بھی پولیو کی موجودگی کا پتہ چلا ہے جنہیں اس بیماری سے پاک قرار دیا گیا تھا۔

ڈبلیو ایچ او کے اہلکار ڈاکٹر بروس ایلورڈ کا کہنا ہے کہ اگر پولیو کے خاتمے کی عالمی کوششیں ناکام رہیں تو یہ ایک بڑی عالمی بیماری کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

ڈاکٹر ایلورڈ کے مطابق’گزشتہ چوبیس ماہ کے دوران تین براعظموں یورپ، افریقہ اور ایشیا میں ہم نے اس بیماری کا پھیلاؤ دیکھا ہے اور اسے متاثرہ بالغ افراد میں سے کچھ علاقوں میں پچاس فیصد موت کا شکار ہوگئے‘۔

ان کایہ بھی کہنا تھا کہ ’اس سے ہمیں یہ پتہ چلتا ہے کہ اگر اس کے خاتمے کی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں تو یہ بیماری تیزی سے پھیل سکتی ہے اور اس کے نتائج ایسے ہوں گے جن کا اندازہ بھی لگانا ابھی مشکل ہے‘۔

ڈاکٹر بروس نے کہا کہ گزشتہ چوبیس مہینوں میں یورپ، افریقہ اور ایشیاء میں بالغ افراد میں پولیو کا خوفناک پھیلاؤ دیکھا گیا ہے اور کچھ واقعات میں ان میں سے پچاس فیصد مریض جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

عالمی ادارہ برائے صحت نے دنیا سے پولیو کی بیماری کے خاتمے کے لیے سن دو ہزار کی تاریخ طے کی تھی۔ اب یہ ادارہ ہنگامی حالت میں کام کر رہا ہے۔

جنیوا میں بی بی سی کی نامہ نگار نے کہا کہ پولیو کے خامتے کی مہم کو کچھ اہم کامیابیاں بھی حاصل ہوئی ہیں جن میں انڈیا قابل ذکر ہے جسے فروری میں پولیو سے پاک قرار دیا گیا تھا۔

پولیو سے متاثر ہونے والے دو سو میں سے ایک مریض زندگی بھر کی معذوری کا شکار ہوتا ہے جن میں زیادہ تر ٹانگیں متاثر ہوتی ہیں۔ معذور ہونے والوں میں سے پانچ سے دس فیصد افراد ہلاک ہو جاتے ہیں۔

پولیو 1998 میں

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پولیو 2002 میں

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پولیو 2012 میں

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

اسی بارے میں