مریخ پر کاربن کی موجودگی کا انکشاف

تصویر کے کاپی رائٹ ESA
Image caption یہ ثابت ہو گیا ہے کہ مریخ پر کاربن پایا جاتا ہے: ڈاکٹر اینڈریو

ایک تحقیق کے دوران شہابیوں سے حاصل ہونے والی نئی معلومات سے پتہ چلا ہے کہ سیارہ مریخ پر زندگی کے پنپنے کے بنیادی عوامل موجود ہیں۔

اس تحقیق میں مریخ سے ملنے والے دس شہابیوں میں کاربن کی موجودگی کا پتہ چلایا گیا ہے۔

امریکی سائنسدانوں کی اس تحقیق کے نتائج کو سائنسی جریدے سائنس میں شائع کیا گیا ہے۔

واشنگٹن کے کارنیگی انسٹیٹیوٹ کے سائنسدانوں کی ایک ٹیم نے شہابیوں میں ’ریڈیوسڈ کاربن‘ کی نشاندہی کی۔ تاہم محققین کا کہنا ہے کہ یہ کاربن کسی زندہ چیز سے حاصل نہیں کیا گیا تھا بلکہ مریخ پر ہونے والی آتش فشانی کے نتیجے میں وجود میں آیا تھا۔

اب سائنسدان یہ معلوم کرنے کے لیے کوشاں ہیں کہ مریخ پر کیسا کیمیائی عمل وقوع پذیر ہوا جس کے نتیجے میں زمین پر پائی جانے والی زندگی کی ’مشترکہ بنیاد‘ سمجھا جانے والا عنصر اس سرخ سیارے پر تشکیل میں آیا۔

’ریڈیوسڈ کاربن‘ کاربن کی وہ قسم ہوتی ہے جس کا کیمیائی تعلق ہائیڈروجن یا پھر خود کاربن سے ہوتا ہے۔

سائنسدانوں کی ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر اینڈریو سٹیل نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’چالیس برس سے ہم مریخ پر ’ریڈیوسڈ کاربن‘ کی تلاش میں تھے، جاننے کی کوشش کر رہے تھے کہ وہ ہے بھی یا نہیں اور اگر ہے توکہاں ہے؟‘

ان کا کہنا ہے کہ ’کاربن کی عدم موجودگی میں زندگی کے پنپنے کا امکان نہیں کیونکہ یہ ریڈیوسڈ کاربن ہی ہے جو ہائیڈروجن، آکسیجن اور نائیٹروجن سے مل کر زندگی کے حیاتیاتی مالیکیول بناتا ہے‘۔

ڈاکٹر اینڈریو کے مطابق ان شہابیوں کے تجزیے نے ان کے پہلے سوال کا جواب دے دیا ہے۔’یعنی کہ یہ ثابت ہو گیا ہے کہ مریخ پر کاربن پایا جاتا ہے اور اب ہم اگلے سوالات کی جانب بڑھ رہے ہیں‘۔

انہیں امید ہے کہ مریخ پر اترنے والا اگلا سائنسی مشن ’کیوروسٹی روور‘ اس اہم سوال پر مزید روشنی ڈالے گا۔

اسی بارے میں