ایران:’فلیم‘ کا توڑ تیار کرنے کا دعویٰ

تصویر کے کاپی رائٹ Kasperski Labs
Image caption فلیم‘ اب تک سامنے آنے والے سب سے پیچیدہ سائبر حملوں میں سے ایک ہے

ایران کا کہنا ہے کہ اس نے حساس معلومات چوری کرنے کے لیے تیار کیے گئے ’فلیم‘ نامی کمپیوٹر وائرس کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت حاصل کر لی ہے۔

اس کمپیوٹر پروگرام کا انکشاف حال ہی میں ایک تحقیق کے نتیجے میں ہوا ہے اور محققین کا کہنا ہے کہ اس وائرس کی مدد سے ایران اور اسرائیل سمیت مشرقِ وسطٰی کے کئی ممالک سے خفیہ معلومات اکٹھی کی گئی ہیں۔

انٹرنیٹ سکیورٹی کے ماہرین نے ’فلیم‘ کو اب تک سامنے آنے والے سب سے پیچیدہ سائبر حملوں میں سے ایک قرار دیا ہے اور اس سے متاثرہ ممالک میں ایران اور اسرائیل کے علاوہ سوڈان، شام، لبنان، سعودی عرب اور مصر شامل ہیں۔

تاہم اب ایران کا کہنا ہے کہ اس نے ایسے کمپیوٹر پروگرام تیار کیے ہیں جو نہ صرف ’فلیم‘ کی نشاندہی کر سکتے ہیں بلکہ اس سے متاثرہ کمپیوٹرز کو صاف بھی کر سکتے ہیں۔

ایران کی قومی کمپیوٹر ایمرجنسی ریسپانس ٹیم ’ماہر‘ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ فلیم وائرس پروگرام کی نشاندہی اور صفائی کرنے والا ٹول مئی کے آغاز میں تیار کیا گیا اور اب ان اداروں میں تقسیم کے لیے تیار ہے جنہیں اس وائرس سے خطرہ ہو سکتا ہے۔

’فلیم‘ کی نشاندہی اس وقت ہوئی تھی جب اقوامِ متحدہ کی بین الاقوامی رابطہ یونین نے سکیورٹی فرمز کی مدد یہ جاننے کے لیے حاصل کی تھی کہ مشرقِ وسطٰی میں کمپیوٹرز سے ڈیٹا غائب کیوں ہو رہا ہے۔

سکیورٹی کمپنیوں کی تحقیق میں ’فلیم‘ نامی اس میلیشیئس ویئر کمپیوٹر پروگرام کا پتہ چلا جو اب تک ماہرین کی نظروں سے اوجھل تھا۔

اس پروگرام پر مفصل تحقیق کرنے والی روسی فرم کیسپر سکائی لیبز کا کہنا ہے کہ ایران اس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک ہے۔

کمپنی کی رپورٹ کے مطابق انہیں ایران میں اس پروگرام سے متاثرہ ایک سو نواسی کمپیوٹرز کا پتہ چلا جبکہ اسرائیل میں ایسے کمپیوٹرز کی تعدا اٹھانوے اور سوڈان میں بتیس تھی۔

رواں برس اپریل میں ایران نے اپنے ایک آئل ٹرمینل میں کمپیوٹر وائرس کے حملے کے بعد اسے انٹرنیٹ سے الگ کیا تھا۔ اب خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ بھی فلیم کا ہی ایک حملہ تھا۔

ایرانی حکام نے جس بیان میں فلیم کا توڑ تیار کرنے کا اعلان کیا ہے اسی بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کی پیچیدگی، مخصوص ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت اور اس کا کارگر ہونا سٹیکس نیٹ اور ڈوکو سائبر اٹیک جیسے سائبر حملوں کی یاد تازہ کرتے ہیں جن کا شکار ایران ماضی میں ہوا ہے۔

سٹکس نیٹ وائرس کے بارے میں عمومی خیال یہی ہے کہ یہ ایران کے جوہری پروگرام کو نشانہ بنانے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔

اسی بارے میں