چیونٹیوں کی سہہ رخی تصاویر کا منصوبہ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

سائنسدانوں کی ایک ٹیم نے ایک نئے سفر کا آغاز کیا ہے۔

ان کا ہدف زمین پر پائی جانے والی چیونٹیوں کی تمام اقسام کی انتہائی تفصیلی تھری ڈی یا سہہ رخی تصاویر حاصل کرنا ہے۔

امریکی سائنسدانوں کی یہ ٹیم دنیا بھر کے مختلف عجائب گھروں میں جا کر وہاں محفوظ کی گئی چیونٹیوں کی مختلف اقسام کی عکس بند کریں گی۔

سائنسدانوں کی یہ ٹیم مختلف اطراف سے ہر چیونٹی کی انتہائی تفصیلی تصاویر کھینچے گی اور ان تصاویر سے پہلی بار چیونٹیوں کے جسم کو اس قدر وضاحت سے دیکھا جا سکے گا۔

ٹیم کا مقصد ان تصاویر کا ’اینٹ ویب‘ نامی ایک آن لائن مجموعہ پیش کرنا ہے جو کہ سائنسدانوں اور طالب علموں کے لیے تحقیق میں مددگار ثابت ہو سکے۔

اس ٹیم کے سربراہ کیلیفورنیا اکیڈمی آف سائنسز کے برائن فشر نے بتایا کہ ان کی ٹیم نے یہ سفر لندن کے نیچرل ہسٹری میوزیم سے شروع کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

ٹیم امریکہ میں پہلے ہی چیونٹیوں کی آٹھ ہزار اقسام کی تصاویر کھینچ چکی ہے۔ البتہ سائنس کی کتب میں چیونٹیوں کی پندرہ ہزار اقسام کی شناخت کی جاتی ہے، مختلف ذرائع سے تقریباً تیس ہزار اقسام کے بارے میں لکھا جا چکا ہے۔ہر وہ قسم جس کی خصوصیات کو بیان کیا جا چکا ہے اور جس کو کوئی خاص نام دیا جا چکا ہے، ہر اس قسم کو دنیا میں کسی نا کسی عجائب گھر میں محفوظ کیا جا چکا ہے۔ اس ٹیم کا مقصد ان سب عجائب گھروں تک پہنچنا اور وہاں موجود چیونٹیوں کے تمام نمونوں کی عکس بندی کرنا ہے۔

چیونٹیاں بہت عرصے سائسندانوں کی دلچسپی کا مرکز رہی ہیں۔ چیونٹیاں منظم سوسائٹی میں رہتی ہیں اور ان میں درجہ بندی بھی پائی جاتی ہے۔

ہر چیونٹی کا اہم کردار ہوتا ہے جیسے کہ مزدور، محافظ یا ملکہ! چیونٹیوں کی آپس میں بات چیت کیمیائی طرز سے ہوتی ہے۔ وہ ایک دوسرے کو خوشبو سے پہچانتی ہیں۔

اسی بارے میں