مریخ پر لینڈنگ کے مخصوص مقام کا تعین

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption مریخ پر لینڈنگ کا مقام مزید مخصوص کر دیا گیا ہے۔

امریکی خلائی ایجنسی ناسا نے مریخ پر بھیجی گئی ’کیوروسٹی‘ نامی خلائی روبوٹ گاڑی کے سیارے پر اترنے کے لیے ایک مخصوص مقام کی نشاندہی کر لی ہے۔

اس سے پہلے یہ مقام ایک وسیع تر دائرہ تھا جس میں سے ایک مخصوص مقام کا تعین کیا گیا ہے۔

نو سو کلوگرام وزنی یہ روبوٹ گاڑی چھ اگست کو مریخ کے استوائی علاقے میں ’گیل کریٹر‘ نامی مقام پر اتاری جائے گی۔

ناسا کا کہنا ہے کہ وہ اس روبوٹ گاڑی کو عین اسی مقام پر اتارنے میں کامیاب ہو جائیں گے کیونکہ اس پر ایک انتہائی پیچیدہ لینڈنگ نظام نصب ہے۔

یہ نظام روبوٹ گاڑی کے مریخ کی فضا میں داخل ہونے کے انتہائی تیز رفتار مرحلے میں ’تھرسٹرز‘ کا استعمال کرے گا۔ ماضی میں لینڈنگ سسٹمز میں تھرسٹر موجود نہیں تھے۔ روبوٹ کے سطح پر اترنے کے آخری مراحل میں ایک بڑے پیراشوٹ اور راکٹ کی مدد سے چلنے والے کریڈل کا استعمال کیا جائے گا۔

ناسا کا کہنا ہے کہ لینڈنگ کے مقام کا مخصوص تعین روبوٹ گاڑی کو اپنے ابتدائی تحقیقاتی مقام پر جلد پہنچنے میں مدد کرے گا۔ یہ تحقیقاتی مقام گیل کریٹر کے درمیان میں پانچ کلومیٹر اونچے ’ماؤنٹ شارپ‘ نامی پہاڑ کا دامن ہے۔

سائنسدانوں کو توقع ہے کہ کیوروسٹی روبوٹ گاڑی کو اس مقام پر پتھروں کی تہیں ملیں گی۔ ان مختلف تہوں سے مریخ کے ماضی کے ماحولیاتی حالات کا اندازہ لگایا جا سکے گا جن سے اس سوال کو حل کرنے میں مدد ملے گی کہ کیا اربوں سال پہلے مریخ پر زندگی کے آثار تھے یا نہیں۔

کیلیفورنیا کے شہر پیساڈینا میں ناسا کی جیٹ پروپلشن لیباٹری میں اس روبوٹ گاڑی کے پراجیکٹ مینیجر پئیٹ دیسنجر کا کہنا تھا کہ مخصوص مقام کا تعین کر کے ہم نے روبوٹ گاڑی کے سفر کا عرصے کافی کم کر دیا ہے۔ ان کے مطابق اس عرصے میں چار ماہ تک کی کمی آئے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس کمی سے روبوٹ گاڑی اپنے اہم تر مقصد یعنی مریخ کی سطح کی تحقیق پر زیادہ وقت دے سکے گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption نو سو کلوگرام وزنی یہ روبوٹ گاڑی چھ اگست کو مریخ کے خطِ استوا کے قریب اتاری جائے گی۔

کیوروسٹی روبوٹ گاڑی کا منصوبہ گزشتہ سال نومبر میں شروع کیا گیا تھا اور اسے ایک خول کے اندر بند کر کے مریخ پر بھیجا گیا۔

فی الحال اس کا مریخ کی جانب نو ماہ طویل اور ستاون کروڑ کلومیٹر پر محیط سفر جاری ہے جس میں انجینیئر روبوٹ گاڑی کے مختلف نظاموں کو آزما رہے ہیں۔

اب تک کی اطلاعات کے مطابق جو دس تحقیقی آلات مریخ پر استعمال ہونے ہیں وہ سب درست کام کرتے نظر آتے ہیں۔

تاہم اس مشن کی ٹیم کو کیوریئوسٹی پر نصب ڈرل ( وہ آلہ جو سطح کی کھدائی کے لیے استعمال ہونا ہے) کے بارے میں چند خدشات ہیں۔ جب یہ آلہ نمونے اکھٹا کرتا ہے تو ممکنہ طور پر یہ ٹیفلون کی ایک تہہ ان پر چھوڑ دیتا ہے۔

ناسا کے سائنسدان اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ اس کیمیائی آلودگی کے اثرات کو اپنے تجزیے میں کیسے درست کیا جائے۔

تاہم کیلیفورنیا انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے اس منصوبے پر کام کرنے والے سائنسدان جان گروتزنگر کا کہنا ہے کہ وہ اس مشکل سے بالکل پریشان نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس مسئلے پر قابو پانا کوئی مشکل بات نہیں اور اسے حل کرنے کے بہت سے طریقے ہیں۔ .

اسی بارے میں