ڈیزل کے دھوئیں سے کینسر ہو سکتا ہے

تصویر کے کاپی رائٹ SPL
Image caption ڈیزل کے استعمال میں کمی کی ضرورت ہے: ماہرین

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے صحت سے منسلک ماہرین کے مطابق ڈیزل گاڑیوں سے خارج ہونے والے دھوئیں سے سرطان یا کینسر کا مرض لاحق ہو سکتا ہے۔

ماہرین کی ٹیم کے مطابق ڈیزل کے دھوئیں سے یقینی طور پر پھیپھڑوں کا کینسر ہو سکتا ہے اور مثانے کا کینسر بھی ہو سکتا ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارے ڈبلیو ایچ او سے منسلک کینسر پر تحقیق کی بین الاقوامی ایجنسی کے مطابق ٹرک ڈرائیورز، ریل وے میں کام کرنے والے کارکن اور کان کن سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔

ایجنسی کے مطابق ہر کسی کو ڈیزل کے دھوئیں سے بچنا چاہیے۔

ماہرین نے پہلی بار کہا ہے کہ ڈیزل کے دھوئیں سے کینسر کا مرض یقینی طور پر لاحق ہوتا ہے لیکن اس کا موازنہ نہیں کیا کہ یہ سرطان کا سبب بننے والے دیگر عوامل سے کتنا خطرناک ہے تاہم اب ڈیزل کے دھوئیں کو اس اس فہرست میں شامل کر لیا گیا ہے جس میں لکڑیوں کی کٹائی، پلوٹینیم اور الکوحل میں سورج کی روشنی کی وجہ سے سرطان لاحق ہو سکتا ہے۔

ان صنعتوں میں کام کرنے والے افراد کو کینسر کا مرض لاحق ہونے کا چالیس فیصد زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔

ادارے سے منسلک ڈاکٹر کرسٹوفر پورٹیر کا کہنا ہے کہ’سائنسی شواہد کے نتائج اور اس ضمن میں کام کرنے والی ٹیم نے اتفاق رائے سے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ انسانوں کو ڈیزل کے دھوئیں سے کینسر کا مرض لاحق ہو سکتا ہے۔‘

’ڈیزل کے دھوئیں میں خارج ہونے والے زہریلے مواد کے صحت پر اثر انداز ہونے کو دیکھتے ہوئے اس بات کی ضرورت ہے کہ دنیا بھر میں اس کے استعمال کو کم کیا جائے۔‘

ادارے نے اس بات کا جائزہ نہیں لیا ہے کہ ایک بڑی آبادی جس کو ڈیزل کے دھوئیں کا کم سامنا کرنا پڑا ہے ان کی صحت پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں اور آیا انہیں کینسر کا مرض لاحق ہونے کا کم خطرہ ہوتا ہے۔

برطانوی محکمہ صحت نے ایجنسی کی رپورٹ پر کہا ہے کہ’ ہم اس رپورٹ کا تفصیلی جائزہ لے رہے ہیں، فضائی آلودگی پھیلانے والے عوام کی صحت کے لیے قابل ذکر خطرہ ہیں اور عوام کی صحت کی بہتری کے حوالے سے اس مسئلے کو دیکھ رہے ہیں۔

اسی بارے میں