ایتھوپیا میں انٹرنیٹ کال پر ’پابندی‘

سکائپ تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption یوتھوپیا میں اخبارات پر پہلے ہی کافی پابندیاں ہیں

ایتھوپیا میں سماجی کارکنان نے متنبہ کیا ہے کہ ملک میں حکومت نے انٹرنٹ سے کال کرنے کے علاوہ انٹرنٹ کے استمعال پر دیگر نئی پابندیاں عائد کی ہیں۔

رپورٹرز وِدآؤٹ بارڈر نامی تنظیم کا کہنا ہے کہ ایوتھوپیا کی حکومت نے ایک ایک نظام بنایا ہے جس کے تحت کے انٹرنٹ کے ’ٹور‘ نامی نیٹورک سے کال نہیں کی جاسکتی ہے۔ یہ انٹرنٹ کا ایسا نظام ہے جس میں آپ اپنا نام بتائے بغیر دوسرے شخص سے بات کرسکتے ہیں۔

واضح رہے کہ ایتھوپیا میں پہلے ہی ’سکائپ‘ یعنی انٹرنیٹ کے ذریعے بات چیت کرنے پر پابندی ہے اور ایسا کرنے والے کو پندرہ برس تک کی سزا ہوسکتی ہے۔

افریقہ میں رپورٹرز وِدآؤٹ بارڈر کے ایک کارکن ایمبرؤیس پیئر نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ’ایتھوپیا کی حکومت انٹرنیٹ کے ذریعے معلومات کے تبادلے کے ہر ذریعے پر پابندی عائد کرنا چاہتی ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اخبارات کو وہاں پہلے ہی سخت پابندیوں کا سامنا ہے اور گزشتہ برس کئی صحافیوں کو گرفتار کیا گیا تھا۔ اب وہاں کی حکومت انٹرنیٹ کے ذریعے معلومات کے تبادلے پر بھی پابندیاں عائد کررہی ہے۔‘

ایمبرؤیس پیئر نے بتایا کہ ’ایتھوپیا میں دن بہ دن انٹرنیٹ کے استمعال کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے اور بہت لوگ حکومت کی جانب سے عائد پابندیوں کے باوجود انٹرنیٹ کا استعمال کر پا رہے ہیں، اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ حکومت انٹرنیٹ سے بات چیت کرنے پر پابندی کیوں لگانا چاہتی ہے۔‘

الجزیرہ ٹی وی نے حال ہی میں یہ خبر شا‏ئع کی تھی کہ گزشتہ چوبیس مئی کو ایتھوپیا کی حکومت نے VOIP نامی انٹرنیٹ پروگرام پر پابندی عائد کردی تھی۔ اس پروگرام کے ذریعے انٹرنیٹ پر فون کی طرح بات چیت کی جاسکتی ہے۔ پابندی کے تحت اگر کوئی شخص اس پروگرام کا استمعال کرتا ہے تو اسے پندرہ برس کی قید کی سزا ہوسکتی ہے۔

ایک مقامی رپورٹ کے مطابق جو شخص اپنے سائبر کیفے میں انٹرنٹ کی یہ سہولت فراہم کرے گا اسے آٹھ برس تک کی قید ہوسکتی ہے اور پابندی شدہ سائٹ کا استمعال کرنے والے کو بھی قید کی سزا ہوسکتی ہے۔

بی بی سی آزادانہ ذرائع سےان اطلاعات کی تصدیق نہیں کرسکی ہے۔

انٹرنیٹ کے ذریعے بات چیت اور دیگر سائٹوں کے استعمال کو مجرمانہ قرار دینا ایتھوپیا کی حکومت کا نیا قدم ہوسکتا ہے لیکن انٹرنیٹ پر وہاں پابندی عام بات ہے۔

بی بی سی کی نامہ نگار کی ایتھوپیا میں سابق نامہ نگار الیزابیتھ بلنٹ کا کہنا ہے کہ ’میں برطانوی انٹرنیٹ ٹیلیفونی کنکشن کا استمعال کرتی تھی لیکن حکومت نے اس پر بھی پابندی عائد کردی ہے۔‘

الیزابیتھ کا کہنا ہے انٹرنیٹ سے بات چیت پر پابندی کی اہم وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ سائبر کیفے میں سرکاری ٹیلیکوم کی بنسبت کم پیسے میں بات چیت ہوجاتی اور حکومت نہیں چاہتی وہ نقصان میں رہے۔

اسی بارے میں