’تنگ نظری کی سیاست مسائل کی بڑی وجہ‘

تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption اس اجلاس کا ایجنڈا کا ’گرین اکانومی‘ یعنی سبز معیشت ہے

ماہرین کا کہنا ہے کہ ماحولیات کے تحفظ اور ترقی کے لیے ہونے والی اقوامِ متحدہ کی کانفرنس میں جنوبی ایشیا اگر کوئی فائدہ اٹھا سکتا ہے تو وہ توانائی کے حصول کا شعبہ ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ایک معاہدے کے ذریعے خطے میں تونائی کی فراہمی کے لیے عالمی سرمایہ کاروں کی حوصلہ افزائی کی جاسکتی ہے۔

جنوبی ایشیا کے زیادہ تر ممالک ممالک میں بجلی کی کمی کا مسئلہ ہے۔

برازیل کے شہر ریو ڈی جنیرو میں ایک سو تیس ممالک کے سربراہان ماحولیات سے متعلق ایک اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں۔ اقوامِ متحدہ نے جو اس اجلاس کی منتظم ہے، اس کا ایجنڈا ’گرین اکانومی‘ یعنی سبز معیشت رکھا ہے۔

ماہرین کا کہنا یہی وجہ ہے کہ وہ جنوبی ایشیا میں توانائی کے شعبے میں ترقی کے حوالے سے پرامید ہیں۔

ماہرین کے مطابق اگر اس عالمی کانفرنس میں صاف توانائی کی پیداوار بڑھانے پر اتفاق ہو جاتا ہے تو یہ ترقی اور ماحولیاتی تحفظ میں توازن پیدا کرے گی اور جنوبی ایشیا کو بھی فائدہ حاصل ہو گا۔

نیپال، بھوٹان اور بھارت کے بعض علاقوں میں پن بجلی کے لیے بڑی صلاحیت موجود ہے۔ جبکہ دوسرے کئی ممالک میں سورج کی روشنی سے بجلی حاصل کرنے کے مواقع موجود ہیں۔

سائنسدان اسے صاف توانائی کا نام دیتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اس سے ماحول کو خراب کیے بغیر ترقی کرنا ممکن ہے۔

لندن کے انسٹی ٹیوٹ آف انوائرمنٹ اینڈ ڈویلپمنٹ سے منسلک ماہر سلیم الحق کو یقین ہے کہ جنوبی ایشیا صاف توانائی کی حامل صلاحیتوں کی وجہ سے بین الاقوامی سرمایہ کاری کوفروغ دے سکتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’بین الاقوامی معاہدے کی وجہ سے بین الاقوامی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی ہو گی۔ اس خطے میں سرمایہ کاری کے لیے اتنا پیسہ نہیں ہے تاہم اس کے پاس ایسی پالیسیاں ضرور ہیں جس سے بین الاقوامی سرمایہ کاری کو ممکن بنایا جا سکے‘۔

دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی سرمایہ کاری حاصل کرنے سے پہلے خطے میں موجود ایسے ممالک جو سیاسی طور پر غیر مستحکم ہیں انہیں پہلے اکھٹا ہونا پڑے گا۔

بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے شعبۂ توانائی کے ماہر عتیق الرحمن کے خیال میں ’تنگ نظری کی سیاست بہت سے مسائل کی وجہ ہے اور یہ ہمار ا سب سے بڑا سانحہ ہے۔ یہاں حکومتوں کے درمیان بہت شکوک پائے جاتے ہیں‘۔

اس خطے کی اہم اقتصادی طاقت بھارت ترقی یافتہ ممالک کی جانب سے دباؤ کا شکار ہے کہ وہ کاربن کے اخراج کو کم کرنے کے لیے اقدامات کرے۔

اقوام متحدہ کی جانب سے پیش کی جانے والی ایک حالیہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اگر بھارت نے اپنی توانائی کی سالانہ پیداواری صلاحیت کو نہ بڑھایا تو وہ ماحولیاتی آلودگی پھیلانے والے ایک بڑا ملک بن جائے گا۔

عتیق الرحمان کا کہنا ہے کہ اس خطے کو توانائی کی ضرورت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’بجلی کے بغیر ترقی کا حصول ناممکن ہے۔ تناؤ اور مشکلات موجود ہیں لیکن ساتھ ساتھ ہمیں توانائی کی بھی ضرورت ہے۔ اس بارے میں کوئی دو رائے نہیں ہیں۔ عام آدمی، غریب آدمی سب کو توانائی چاہیے‘۔

ایک اندازے کے مطابق جنوبی ایشیا میں ساٹھ فیصد آبادی کو بجلی کی سہولت میسر نہیں۔ عتیق الرحمان جیسے تجزیہ کاروں کے نزدیک اس قسم کی کانفرنسوں سے خطے کے عوام کی حالت تو فوراً نہیں بدلی جا سکتی لیکن ان ممالک کے رہنما طویل مدت کے دوران ایسا کر سکتے ہیں۔

’اس خطے میں ہمارے رہنما بھی مسئلے کے حل میں رکاوٹ ہیں۔ ہم اس کے لیے بان کی مون کو ذمہ دار قرار نہیں دے سکتے۔ ہمیں عدم تعاون کے لیے اپنے ہی رہنماؤں کو ذمہ دار ٹھہرانا ہوگا‘۔

جنوبی ایشیا کے رہنما بدھ سے شروع ہونے والے اس تین روزہ اجلاس سے یہ پیغام ساتھ لے کر جاتے بھی ہیں سوال یہ ہے کہ ان مشکل معاشی حالات میں عالمی سرمایہ کار اس خطے میں پیسہ لگانا چاہیں گے۔