’دھن بنانے کے لیے موسیقار ضروری نہیں‘

لندن کے امپيريل کالج کے سائنسدانوں نے ایک ایسا کمپیوٹر پروگرام تیار کرنے کا دعویٰ کیا ہے جو آپ کی من چاہی دھن بنا سکتا ہے یعنی اب موسیقی کی دھنوں کے لیے موسیقاروں کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

پروفیسر ارمڈ لی رائے اور باب میكکلم نے مشترکہ طور پر یہ کمپیوٹر پروگرام بنایا ہے جسے ’ڈارون ٹيونز‘ کا نام دیا گیا ہے۔

پروفیسر ارمڈ لی رائے کہتے ہیں کہ اگر آپ کو یہ لگتا ہے کہ موسیقی کی دھن بنانے کے لیے موسیقار کا ہونا ضروری ہے تو ایسا نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’عام طور پر ہم ایسا نہیں سوچتے کہ موسیقی کا ارتقاء ہوتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہر موسیقی کی ایک تاریخ ہوتی ہے، ایک روایت ہوتی ہے۔ چاہے آپ كانگو کی موسیقی سنیں یا افریقہ کے كالا ہاري ریگستان میں رہنے والے قبائل کی موسیقی، دونوں میں بہت مشابہت ہے۔ ان کی روایت بہت پرانی ہے۔ اس کا بھی ترقی اسی طرح ہوتی ہے جس طرح حیاتیاتی سائنس کے مطابق جانداروں اور انسان کا ارتقاء ہوا ہے‘۔

’ڈارون ٹيونز‘ کے منصوبے میں شامل دوسرے سائنسدان باب میككلم کے مطابق وہ لوگ آوازوں سے موسیقی پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ’ہم بہت ہی عمومی طریقے سے کسی آواز کو منتخب کرتے ہیں اور اس سے پیدا ہونے والی دھن یا آواز لوگوں کو سناتے ہیں۔زیادہ لوگ جسے پسند کرتے ہیں اسے رکھتے ہیں اور باقی کو چھوڑ دیتے ہیں‘۔

باب کے مطابق اسی طرح تقریباً دس ہزار آوازوں کو جب کمپیوٹر نے ایک ساتھ ملایا جب جا کر انہیں ان آوازوں میں ایک لے اور تال محسوس ہونے لگی۔ پروفیسر لی رائے کے مطابق اس سے حاصل ہونے والا سب سے اہم نتیجہ یہ تھا کہ بغیر موسیقار کی مدد کے بھی موسیقی بنائی جا سکتی ہے۔

پروفیسر لی رائے کو اس منصوبے کے مستقبل میں مزید کامیاب ہونے کا مکمل یقین ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’مجھے اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر اس منصوبے میں بڑے اور تیز ترین کمپیوٹر کی مدد سے مہینوں کے بجائے کئی برسوں تک کام کریں اور اس میں صرف چند ہزار لوگوں کی جگہ لاکھوں لوگ شامل ہوں تو ہم بہترین موسیقی پیدا کر سکتے ہیں اور وہ موسیقی کسی خاص شخص کی نہیں بلکہ صحیح معنوں میں عوامی موسیقی ہوگی‘۔

اسی بارے میں