بھارت: ’سستے ترین ٹیبلیٹ‘ کا نیا ماڈل

آکاش ون تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

بھارت نے ’دنیا کے سستے ترین‘ ٹیبلیٹ کا نیا ماڈل ’اکاش ٹو‘ پیش کیا ہے۔

یہ نیا ماڈل پہلے کے مقابلے میں تیز تر ہے، اس کی بیٹری زیادہ دیر تک چلتی ہے اور یہ زیادہ پروگرام کی صلاحیت رکھتا ہے۔

آکاش ٹیبلیٹ بنیادی طور پر طالبِ علموں کے لیے بنایا گیا ہے جس کی قیمت 2،263 بھارتی روپے یا 26 پاؤنڈ ہے۔

حکومت کا خیال ہے کہ کم قیمت والے ان ٹیبلیٹس کے ذریعے پورے بھارت میں کمپیوٹر کے استعمال اور انٹرنیٹ کی رسائی کو آسان بنانے میں مدد ملے گی۔

تاہم اس سکیم میں ان ٹیبلیٹس کی تقسیم ایک بڑا مسئلہ ہے اور چند ہی سکول یہ ٹیبلیٹ حاصل کر پائے ہیں۔

انفارمیشن اور ٹیکنالوجی کے وزیر کپل سبل نے طالبِ علموں اور سکول کے اساتذہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس پراجیکٹ کو آگے بڑھانے میں تاخیر کے کچھ اسباب ہیں جن کی تفصیل میں وہ نہیں جانا چاہتے۔

آکاش ٹو کے نمونے تجربے کے لیے بھیج دیے گئے ہیں اور انہیں بنانے کا کام جولائی یا اگست میں شروع ہوگا۔

ممبئی آئی آئی ٹی جو کہ ایک انجینیئرنگ انسٹی ٹیوٹ ہے اس سال کے آخر تک تقریباً ایک لاکھ ٹیبلیٹ انجینیئرنگ کالجوں میں تقسیم کرے گا۔

ممبئی آئی آئی ٹی کے پروفیسر ڈی بی پاٹھک کا کہنا ہے کہ یہ صرف ایک ٹیبلیٹ نہیں بلکہ ایک مکمل کمپیوٹر ہے۔

نئے آکاش ٹو کی پروسیسنگ سپیڈ 800 میگا ہرٹز ہے اور اس کی بیٹری کی لائف تین گھنٹہ ہے۔