بیس ہزار سال قدیم پیالے کی دریافت

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption دریافت کیا جانے والا پیالہ شکاریوں کے کسی گروہ کا تھا

عالمی ماہرینِ آثارِ قدیمہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے دنیا کے سب سے قدیم ظروف یا برتنوں کے ٹکڑے دریافت کر لیے ہیں۔

امریکی جریدے ’سائنس‘ میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق چین اور امریکہ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ برتنوں کے یہ ٹکڑے انہیں چین کے جنوبی صوبے جیانگ زی کے ایک غار سے ملے ہیں۔

جریدے میں بتایا گیا ہے کہ ان برتنوں پر کیے جانے والے ریڈیو کاربن تجزیے سے پتہ چلا ہے کہ ان میں شامل ایک پیالے کے ٹکڑے بیس ہزار سال پرانے ہو سکتے ہیں۔

یہ اس سے قبل دنیا میں دریافت کیے گئے قدیم ترین ظروف سے دو ہزار سال زیادہ قدیم ہیں۔

پیکنگ یونیورسٹی کے استاد اور اس تحقیق کے روحِ رواں پروفیسر وو زیاؤہونگ کا کہنا ہے کہ ان کی ٹیم ان نتائج کے بارے میں بہت پرجوش ہے اور اب اس پر مزید تحقیق کا ارادہ رکھتی ہے۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’ہم اس دریافت کے بعد بہت پرجوش ہیں۔ یہ نتائج محققین کی کئی نسلوں کی کوششوں کا ثمر ہیں۔ اب ہم یہ جان سکتے ہیں کہ یہ برتن اس دور میں کیوں تھے اور ان کا استعمال کیا تھا اور یہ انسان کی بقاء میں کیا کردار ادا کرتے تھے‘۔

ماہرین کا ابتدائی اندازہ ہے کہ دریافت کیا جانے والا پیالہ شکاریوں کے کسی گروہ کا تھا اور اسے کھانا پکانے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔

اس دریافت سے اس خیال کو بھی تقویت ملی ہے کہ مشرقی ایشیا میں پندرہ ہزار سال قبل برتنوں کا استعمال شروع ہوگیا تھا۔

یہ خیال ان نظریات کی نفی کرتا ہے جن کے مطابق دنیا میں برتن دس ہزار سال قبل اس وقت ایجاد ہوئے تھے جب انسانوں نے شکاریوں کا طرزِ زندگی ترک کر کے زراعت کا پیشہ اپنایا تھا۔