ہمارا دوسرا دماغ ہمارے معدے میں ہے

Image caption جب ہم اپنے معدے میں گدگدی محسوس کرتے ہیں تو اس وقت معدے میں موجود دماغ کھوپٹری میں موجود دماغ سے بات کر رہا ہوتا ہے

ہمارا معدہ ہو سکتا ہے کہ ہم میں سے کئی کے لیے ایک تاریک معمہ ہو لیکن ایک نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ کس طرح سے معدہ میں آنتیں ہمارے رویے اور بھوک کو کنٹرول کرتی ہیں۔

اب ہمارے میں سے بہت سارے اپنے معدہ میں انہضام نظام کے عمل کو دیکھ سکتے ہیں۔

لندن کے سائنس میوزیم میں لوگ کے سامنے میں نے اپنے ہی معدہ کو ایک بڑی سکرین پر دیکھا۔

ناشتے میں دلیہ کھایا اور بڑی سکرین پر دیکھا کہ کس طرح سے یہ معدے میں ٹوٹتا ہے اور ایسڈ میں تبدیل ہوتا ہے اور کس طرح سے چھوٹی آنت میں ایک کریمی گودے ( کایم) کی طرح جاتا ہے۔

ہماری آنت میں دس کروڑ کے قریب برین سیلز ہوتے ہیں اور یہ تعداد بلی کے دماغ میں پائے جانے والے سیلز کے برابر ہے۔

میں نے ایک ننھا سا کمیرہ گولی کی طور پر نگلا تاکہ یہ سارا دن عمل انہضام نظام سے تصاویر ایک بڑی سکرین پر بھیجتا رہے۔

اس کا پہلا پڑاؤ میرا معدہ تھا یہاں پیچیدہ عمل قابو میں تھا اور اس کو بعض اوقات چھوٹا دماغ کہا جاتا ہے، اس میں نیورونز کا ایک نیٹ ورک ہے جو معدے اور آنت کو کنٹرول کرتا ہے۔

Image caption ایک ننھا سا کمیرہ گولی کی طور پر نگلا تاکہ یہ سارا دن عمل انہضام نظام سے تصاویر ایک بڑی سکرین پر بھیجتا رہے

یہ چھوٹا سا دماغ کوئی بہت زیادہ پیچیدہ سوچ و بچار نہیں کرتا ہے لیکن یہ روزانہ کے ضروری معاملات سرانجام دیتا ہے، جیسا کہ خوراک کو ہضم کرنے کے حوالے سے اس کو پیسنا، اس کو بہت زیادہ ملانا یا آمیزش کرنا اور اس کو ہضم کرنا، خوراک کو توڑنا اور اس میں سے ہماری ضرورت کے مطابق وٹامنز اور غذائی اجزاء کو نکالنا شامل ہے۔

یہ تمام نیورونز انہضام نظام کو ہمارے دماغ سے قریبی رابطے میں رکھتے ہیں اور اس میں ’واگس اعصاب‘ بھی شامل ہوتے ہیں جو اکثر ہماری جذباتی کیفیت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

مثال کے طور پر جب ہم اپنے معدے میں گدگدی محسوس کرتے ہیں تو اس وقت معدے میں موجود دماغ کھوپٹری میں موجود دماغ سے بات کر رہا ہوتا ہے۔

جب ہم خوف یا ڈر محسوس کرتے ہیں تو اس وقت خون آنت سے پٹھوں میں منتقل ہو جاتا ہے اور اس صورت میں ہمارا معدہ احتجاج کر رہا ہوتا ہے۔

جب ہم بہت زیادہ کھانا کھاتے ہیں تو اس وقت ہمارا معدہ تقریباً چالیس فیصد بڑھ جاتا ہے۔

ہم سوچتے ہیں کہ معدے میں پھیلے عضو دماغ کو پیغام دیتے ہیں کہ معدہ بھر چکا ہے اور اب کھانا ختم کرنے کا وقت ہے، لیکن معلوم ہوا ہے کہ بھوک کے پیغامات ہمارے معدے سے پیدا ہوتے ہیں اور یہ ان سے بہت زیادہ چالاک ہوتے ہیں۔

مثال کے طور پر جب آپ زیادہ کھانا کھاتے ہیں تو آرام کرنے کی خواہش پیدا ہوتی ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ خون کی ایک تہائی مقدار آپ کی آنت میں منتقل ہو جاتی ہے تاکہ وہ اپنا ضروری کام کر سکے۔ اسی لیے ہمیں بچپن میں کہا جاتا تھا کہ پہلے خوراک ہضم ہونے دیں اور اس کے بعد ہی کوئی زور لگانے والا کام کرنا ہو تو کریں۔

اسی بارے میں