فیس بک: لائیکس اور اشتہارات کی قدر مشکوک

تصویر کے کاپی رائٹ other
Image caption فیس بک کے لائکس اور ان کی قدروقیمت پر بی بی سی نے تحقیق کی جس کے مطابق لائیکس حاصل کرنے کے لیے کمپنیاں اپنے پیسے ضائع کر رہی ہیں۔

بی بی سی کی تحقیقات کے مطابق فیس بک پر لائیکس حاصل کرنے کے لیے اشتہارات دینے پر کمپنیاں خطیر رقم ضائع کر رہی ہیں جن کا شاید ان کی مصنوعات سے دور تک کا تعلق نہیں ہے۔

یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ فیس بک کے بہت سارے صارفین نے اپنی ذاتی تفصیلات کے بارے میں غلط بیانی کی ہے۔ ایک سکیورٹی ماہر کے مطابق کچھ پروفائلز جعلی لگتی ہیں جو کہ کمپیوٹر کے پروگرام چلاتے ہیں۔

فیس بک کے مطابق ’انہیں اس میں کسی واضح مسئلے کے شواہد نظر نہیں آتے‘۔ ان کے مطابق بہت سارے بڑے برینڈز کے مارکیٹنگ کے شعبوں کی نظر میں لائیکس کی بہت قدر و قیمت ہے۔

فیس بک مختلف کمپنیوں سے نئے لائیکس بڑھانے کی اشتہاربازی کے لیے پیسے وصول کرتا ہے۔ بعض کمپنیوں نے اسی طرح لاکھوں لائیکس حاصل کیے ہیں۔

یاد رہے کہ فیس بک کی آمدنی کا ایک بہت بڑا حصہ اس کے اشتہارات سے آتا ہے۔ اس کی کارکردگی کا جائزہ چھبیس جولائی کو سامنے آئے گا جب کمپنی اپنے مالیاتی نتائج پہلی بار سامنے لائے گی۔

بی بی سی سے ایک مارکیٹنگ کنسلٹنٹ نے رابطہ کیا جنہوں نے صارفین کو لائیکس کی قدروقیمت پر محتاط رہنے کا کہا ہے۔ اس بات کو ثابت کرنے کے لیے انہوں نے ایک تجربہ کیا ہے۔

فیس بک نے کچھ عرصہ پہلے یہ بتایا تھا کہ شاید اس کے نو سو ایک ملین صارفین میں سے پانچ سے چھ فیصد جعلی ہوں۔ اگر اس حصاب سے دیکھا جائے تو یہ چوّن ملین پروفائلز بنتی ہیں۔

سکیورٹی فرم سوفوز کے گراہم کلولی کا کہنا ہے کہ یہ ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔ ’سپیمرز اور ملویئر لکھنے والے آسانی سے بڑے پیمانے پر جعلی پروفائلز بنا سکتے ہیں جس کے مدد سے وہ لوگوں کو دھوکہ سے دوست بنا سکتے ہیں۔‘

واضع رہے کہ سپیمر ایسے صارف کو کہتے ہیں جو غیر ضروری چیزیں لوگوں کو مختلف ذرائع سے بھجواتا ہے۔ ملویئر ایک ایسے کمپیوٹر پروگرام کو کہتے ہیں جو کمپیوٹرز کو خراب کرنے یا ان سے معلومات اڑانے کی کوشش کرتا ہے۔

گراہم نے مزید کہا کہ ’ہمیں معلوم ہے کہ ان میں سے بہت سارے اکاؤنٹ کمپیوٹر پروگرام کے مدد سے چلائے جاتے ہیں۔ جو کہ ایک ہی کمپیوٹر پر بیٹھے ایک ہی شخص کے ہاتھ میں پتلی کی طرح ہوتا ہے جو ایک حکم لائیک کا دیتا ہے اور اس سے جتنے چاہے مرضی فیس بک صفحات کو لائیک کروا لیں۔‘

فیس بک کی نمائندہ نے اس بات کی تردید کی ہے۔ گراہم کلولی نے کہا کہ ہر بار جب کوئی کاروباری اشتہار کسی جعلی فیس بک فین تک جاتا ہے اس پر فیس بک پیسے کماتا ہے۔

مائیکل ٹمتھ جو کہ ایک سوشل میڈیا مارکیٹنگ کنسلٹنٹ ہیں نے کئی گاہکوں کے لیے فیس بک پر مارکیٹنگ مہم چلائی ہیں۔

’شروع میں تو گاہک بہت خوش تھے لیکن جب انہوں نے اس چیز کا جائزہ لیا کہ کون ان کے اشتہارات کو لائیک کر رہا ہے تب وہ کچھ فکر مند ہوئے۔ کیونکہ ان کا اشتہار دنیا بھر کے لیے تھا مگر اس پر تمام لائیکس چند مخصوص ممالک سے آرہے تھے جیسا کہ مصر اور فلپائن۔‘

ٹمتھ کے مطابق ’ان میں سے کئی تیرہ سے سترہ سال کی عمر کے تھے اور ان کے پروفائل کے نام بڑی مشکوک تھے اور جب ہم نے مزید تحقیق کی تو معلوم چلا کہ ان پروفائلز سے لوگ تین ہزار، چار ہزار بلکہ چھ ہزار تک فیس بک پیج لائیک کر رہے تھے۔‘

بی بی سی نے یہی تجربہ کیا اور ایک سطحی کمپنی کا پیج بنایا تو اس پر ہونی والے لائیکس میں مصر اور فلپائن سے ہونے والے لائیکس زیادہ تھے۔ اسی طرح لائیک کرنے والے ایک فین کا نام احمد رونالڈو تھا جن کا دعویٰ تھا کہ وہ ریال میڈرڈ کے لیے کام کرتے ہیں۔

اس کے بر عکس ایک کمپنی کے عہدیدار کا کہنا تھا کہ اس کی کمپنی نے اندازہ لگایا کہ وہ اپنے صارفین کے ساتھ بغیر پیسے خرچ کیے روابط بہتر بنانے کے لیے فیس بک کو استعمال کر سکتے ہیں۔

اسی بارے میں