’آواز کی مدد سے آگ بجھانا ممکن‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ طبیعات کی نظر سے آگ کا شعلہ ایک ’کولڈ پلازما‘ ہے

امریکی فوج کا تحقیقی ادارہ ’ڈیفینس ایڈوانسڈ ریسرچ پروجیکٹس ایجنسی‘ (ڈارپا) آواز کی مدد سے آگ بھجانے کے عمل پر تحقیق کر رہا ہے۔

چھوٹی اور غیر ہوا دار جگہیں جیسے کہ آبدوزیں اور جہازوں کے کاک پٹ اس معاملے میں فوج کے لیے کافی مشکلات پیدا کرتے ہیں۔

ڈارپا نے سنہ دو ہزار آٹھ میں ’انسٹنٹ فائر سپریشن پروگرام‘ یعنی آگ کو فوری بجھانے کے طریقوں پر تحقیق شروع کی تھی جس کے تحت آگ کی کیمیائی خاصیتوں پر مبنی روایتی طریقوں کی بجائے طبیعات کے شعبے سے نئی طرز کے طریقوں پر کام ہو رہا ہے۔

لیبارٹری میں کامیاب تجربوں کے باوجود محققین کا اعتراف ہے کہ اس کی عام زندگی میں فوائد کا انہیں ابھی اندازہ نہیں۔

ایجنسی کی ویب سائٹ پر بتایا گیا کہ طبیعات کی نظر سے تو آگ کا شعلہ ایک ’کولڈ پلازما‘ ہے اور اس خاصیت کو استعمال کرتے ہوئے شعلوں میں تبدیلی کو کنٹرول کر کے انہیں بجھایا جا سکتا ہے۔

تحقیق کے لیے دو مختلف انداز میں آگ بجھانے کی کوشش کی گئی۔ ایک طریقۂ کار میں ’الیکٹرومیگنیٹکس‘ اور دوسری میں آواز کا استعمال کیا گیا۔

ایک ٹیم نے چھوٹے سے ’الیکٹروڈ‘ کی مدد سے میتھین گیس اور مائع ایندھنوں کے شعلوں پر قابو پایا۔

آواز کی مدد سے شعلوں کو کنٹرول یا بجھانے والی ٹیم نے مخصوص فریکوئنسی سے کام لیا۔

ڈارپا کے پروگرام مینیجر میتھیو گُڈمین نے کہا ’ ہماری تحقیق سے واضح ہوتا ہے کہ شعلوں اور آگ کی طبیعات میں ابھی بہت سے حیران کن راز پوشیدہ ہیں۔ شاید ہماری تحقیق سے نئے خیالات پیدا اور تحقیقات شروع ہو جائیں گی۔‘