سرسبز گلیوں سے آلودگی میں کمی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ‘گرین والز’ کا فائدہ یہ ہے کہ یہ گلی کی حدود میں آنے والی اور رہنے والی ہوا کو صاف کرتی ہیں۔

سائنسدانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ شہری علاقوں میں ’ گرین والز‘ یا سبزہ والی دیواروں سے آلودگی میں تیس فیصد تک کمی ہو سکتی ہے۔ برطانیہ میں ہونے والی ایک تحقیق نے ثابت کیا ہے کہ ایسی گلیوں میں درخت اور سبزہ اگانے سے آلودگی میں کمی کی جاسکتی ہے جن میں آلودگی کی سطح زیادہ ہوتی ہے۔

شہروں اور قصبوں میں درخت اگانے سے واضح ہوا ہے کہ نائٹروجن ڈائی اوکسائیڈ اور انسانی صحت کے لیے نقصان دہ بعض دوسرے مادے ختم ہوتے ہیں۔

یہ معلومات ماحولیاتی سائنس اور ٹیکنالوجی کے شمارے میں شائع کی گئی ہیں۔ ان معلومات کو برمنگھم یونیورسٹی کے پروفیسر روب میکنزی اور لینکسٹر یونیورسٹی کے ڈاکٹر ٹام پیوہ نے مل کر لکھا ہے۔

پروفیسر روب میکینزی کے مطابق ’اب تک ماحولیاتی آلودگی میں کمی کے لیے کئی قسم کے طریقے آزمائے جاتے تھے جیسا کہ پرانی گاڑیاں ختم کی جائیں یا کنجیسشن چارج لگایا جائے لیکن ان میں سے کچھ کے مطلوبہ نتائج نہیں نکلے‘۔

ہماری گلیوں کی حدود اس وقت بلند و بالا عمارتوں کی وجہ سے وادیوں کی صورت اختیار کر چکی ہیں۔ اور ان کی حدود میں داخل ہونے والی آلودہ ہوا ان میں پھنس کر مشکل سے خارج ہوتی ہے۔

’گرین والز‘ کا فائدہ یہ ہے کہ یہ گلی کی حدود میں آنے والی اور رہنے والی ہوا کو صاف کرتی ہیں۔ زیادہ دیواروں پر سبزہ اگانے سے ہم اپنے آلودگی کے مقامی مسائل کو حل کر سکتے ہیں۔

’گرین والز‘ بیلوں پر مشتمل پودے ہوتے ہیں جو کہ دیواروں پر چڑھتی ہیں اور یہ ایک ہوا کو صاف کرنے والے فلٹر کا کام کرتی ہیں۔

لندن کے محکمہ ٹرانسپورٹ کے شعبہ ماحولیات کی سربراہ نکولہ چیتھم نے کہا کہ ان کے محکمہ نے لندن میں دوسری گرین وال بنائی ہے تاکہ ٹریفک کے بھاری دباؤ کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔

اسی طرح ڈاکٹر پیوہ نے کہا کہ ان پودوں کی بہت دیکھ بھال کرنی پڑے گی اور یہ دیکھنا پڑے گا کہ کہاں اور کیسے یہ سبزہ لگایا جائے۔

اسی بارے میں