’آئس برگ پر نظر رکھنا مشکل ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

جزیرہ گرین لینڈ پر موجود پیٹرمین گلیشیئر سے برف کا ایک بہت بڑا ٹکڑا ٹوٹ کر الگ ہوگیا ہے۔ یہ آئس برگ کہاں جائے گا اور اس پر کیسے نظر رکھی جائے گی۔

اس آئس برگ پر نظر رکھنے میں دقت نہیں ہو گی کیونکہ اس کا حجم نیویارک کے علاقے مین ہٹن سے دوگنا بتایا گیا ہے۔ یہ با آسانی سیٹیلائٹ سے دیکھا جا سکتا ہے۔

کینیڈا کی آئس سروس کی سینیئر اہلکار ٹروڈی کا کہنا ہے کہ جب یہ آئس برگ کھلے سمندر میں داخل ہو گا تو یہ چھوٹے حصوں میں تقسیم ہو جائے گا اور کس طرح تقسیم ہو گا یہ کہنا مشکل ہے۔

ٹروڈی سیٹیلائٹ سے حاصل کی گئی معلومات سے آئس برگ کا پتہ چلاتی ہیں اور انہوں ہی نے اس آئس برگ کے ٹوٹے جانے کا پتہ چلایا تھا۔

ان کا کہنا ہے کہ ایک بار آئس برگ اگر ٹوٹ جائے تو اس پر نظر رکھنی مشکل ہو جاتی ہے۔

ان ٹکڑوں پر نظر رکھنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ ان پر سیٹیلائٹ ٹریکنگ کے آلات ڈال دیے جائیں جن سے ان کے بارے میں معلومات حاصل ملتی رہیں۔ لیکن اس میں کچھ مشکلات ہیں۔ ’زیادہ تر آلات کی بیٹریاں ایک سال تک ہی چلتی ہیں اور اس کے بعد بیٹریاں تبدیل کرنی ہوتی ہیں۔‘

ٹروڈی نے دو سال قبل بھی اسی گلیشیئر سے علیحدہ ہوئے ایک تودے پر نظر رکھی ہوئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ آئس برگ ابھی بھی کافی بڑا ہے۔ ’اس آئس برگ کو ایک پتلی جگہ سے باہر نکلنے میں کافی وقت لگا تھا۔ سمندر میں داخل ہو کر یہ دو ٹکڑوں میں بٹ گیا جن میں سے ایک نو فاؤنڈ لینڈ پہنچا۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ اس آئس برگ کا دوسرا ٹکڑا جو کہ چالیس مربع کلومیٹر کا ہے بیفن آئی لینڈ پر موجود ہے۔ ’بحری جازوں کی طرح آئس برگ بھی اگر ساحل کے بہت قریب پہنچ جائیں تو وہ تہہ میں پھنس جاتے ہیں۔‘

تو کیا یہ موجودہ آئس برگ بھی وہی راستہ اپنائے گا جو دو سال قبل علیحدہ ہوئے آئس برگ نے اپنایا؟ ٹروڈی کا کہنا ہے کہ یہ کہنا مشکل ہے۔

اسی بارے میں