نمیبیا: ’پانی کا ذخیرہ 400 سال کے لیے کافی‘

تصویر کے کاپی رائٹ BGR
Image caption نمیبیا میں پانی کا دس ہزار سالہ پرانہ ذخیرہ دریافت ہوا ہے جو ملک کے چالیس فیصد ابادی کی چار سو سال تک پانی کی ضروریات پوری کرے گا

افریقہ کے ملک نمیبیا میں پانی کا ایک دس ہزار سالہ پرانا بڑا ذخیرہ دریافت ہوا ہے جو اس ملک کے ترقی کے لیے بہت مفید ہو گا۔

ایک اندازے کے مطابق یہ ذخیرہ چار سو سال تک نمیبیا کے شمالی علاقاجات کے پانی کی ضروریات کو پورا کر سکتا ہے۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس ذخیرے کا پانی دس ہزار سال پرانا ہے لیکن پینے کے لیے جدید ذخائر کے پانی سے زیادہ موزوں ہے۔ تاہم غیر قانونی طور پر پانی نکالنے سے اس نئے ذخیرے کو خطرہ ہے۔

شمالی نمیبیا میں پانی یا تو بہت کم ہے یا بہت زیادہ۔ اس علاقے میں رہنے والے آٹھ لاکھ لوگوں کا پینے کے پانی کا انحصار ایک چالیس سالہ پرانی نہر پر ہے جو جو انگولا سے بہتی ہے۔

نمیبیا کی حکومت ایک دہائی سے جرمنی اور دوسرے یورپی ملکوں کے ساتھ مل کر پانی کے کمی کے مسئلے کو حل کرنے کوشش کرتی رہی ہے۔ اب ان کو انگولا اور نمیبیا کی سرحد پر اوہنگوینا دوئم کے نام سے پانی کا ذخیرہ مل گیا ہے۔

نمیبیا میں یہ ذخیرہ ستر ضرب چالیس کلو میٹر کے علاقے پر پھیلا ہوا ہے۔

اس ذخیرے کے جرمن پراجکٹ منیجر مارٹن کوینگر کے مطابق ’یہ پانی کا ایک دائمی ذخیرہ ہے اور اتنا پانی ہے کہ چار سو سال تک اس علاقے کے لوگ اس سے مستفید ہوں گے۔ اس علاقے میں نمیبیا کی چالیس فیصد آبادی رہتی ہے۔‘

’اتنی مقدار میں پانی نکالا جائے جتنی مقدار میں پانی پیچھے سے ذخیرے میں آ رہا ہے۔ ذخیرے میں اتنا پانی ہے کہ ان لوگوں کے لیے بہت عرصے تک کافی ہو گا۔‘

اس علاقے کے لوگوں کا پانی کا انحصار دو دریاؤں پر ہے جس کی وجہ سے زراعت ان زمینوں تک محدود ہوگئی ہے جو ان دریاؤں کے قریب ہے۔

مارٹن نے مزید کہا کہ نئے ذخیرے کی دریافت سے اس علاقے میں کاشت کاری کا نظام ایک نئی شکل اختیار کرلے گا۔

وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا ’اس ذخیرے سے دیہی علاقوں میں پانی آبپاشی کے لیے اور جمع کرنے کے لیے استعمال ہوگا۔ ممکن ہے کہ اس سے متبادل ذخائر بھی پیدا کئے جائیں۔‘

مارٹن کا کہنا ہے کہ یہ ذخیرہ دس ہزار سال پرانا صحیح لیکن اس کا پانی پینے کے قابل ہے۔ اگر یہ پانی دس ہزار سال تک زیر زمین رہا تو یہ اس وقت زمین میں بھر گیا تھا جس وقت آلودگی کے مسائل نہیں تھے اس لیے یہ پانی پینے کے قابل ہے۔

پانی زیادہ گہرائی میں نہیں ہے اس لیے اسے نکالنا آسان ہے لیکن یہ بھی خطرہ ہے کہ بغیر اجازت کے ڈرلنگ کرنے سے پانی کا معیار خراب ہونے کا خدشہ ہے۔

مارٹن کا کہنا ہے ’اگر لوگ ہماری تجاویز پر عمل نہیں کریں گے تو خطرہ ہے کہ اوپر کا نمکین پانی نچلی سطح پر صاف پانی کے ساتھ مل جائے گا اور اسے خراب کردے گا۔‘

ذخیرے کی دریافت کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ لوگوں کو موسمی تبدیلی سے نمٹنے میں بھی مدد ملے گی۔

محققین کا خیال ہے کہ یہ ذخیرہ پندرہ سال کی خشک سالی کا ازالہ کرے گا۔

محقیقین کی کوشش ہے کہ یورپی یونین کے فنڈز ختم ہونے سے پہلے نمیبیا کے جوانوں کی تربیت کرے کہ وہ اپنے ملک کے آبی ذخائر کا صحیح استعمال کریں۔

اسی بارے میں