رات کو زیادہ شفٹ کرنا مضرِ صحت

تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption محققین کے مطابق عام ملازمین کے برعکس شفٹ میں کام کرنے والے ملازمین کو بیماریوں کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے

ایک نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ شفٹ میں کام کرنے والے ملازمین کو دل کے دورے یا فالج کا مرض لاحق ہونے کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔

برٹش میڈیکل جرنل نے اس تحقیق میں بیس لاکھ ملازمین کو شامل کیا۔

جریدے کے مطابق شفٹ میں کام کرنے والے ملازمین نے باڈی کلاک متاثر ہونے اور اس کے معمولاتِ زندگی پر برے اثرات پڑنے کی شکایت کی۔

اس سے پہلے کہا گیا تھا کہ شفٹ میں کام کرنے والے افراد کو شوگر یا ذیابیطس اور بلڈ پریشر کا مرض لاحق ہونے کا خطرہ ہو سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ رات کی شفٹوں میں کمی سے ورکرز اس مسئلے سے نمٹ سکتے ہیں۔

تحقیق کے دوران سامنے آنے والے نتائج میں سترہ ہزار تین سو انسٹھ ملازمین کو شریان سے متعلق بیماری جیسا کہ عارضۂ قلب، چھ ہزار پانچ سو اٹھانوے کو ہاٹ اٹیک یا دل کا دورہ اور اٹھارہ سو چون کو خون دماغ تک نہ پہنچنے کی وجہ سے فالج کا مرض لاحق ہوا۔

ناروے اور کینیڈا کے محققین نے بھی اس حوالے سے کی جانے والی چونتیس تحقیقات کا مطالعہ کیا ہے۔

محققین کے مطابق عام ملازمین کے برعکس شفٹ میں کام کرنے والے ملازمین کو ان بیماریوں کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔

جریدے کے مطابق شفٹ میں کام کرنے والے افراد کو دل کے دورے کا تیئیس فیصد، شریان سے متعلق بیماری کے چوبیس فیصد اور فالج ہونے کے پانچ فیصد زیادہ امکانات ہوتے ہیں۔

ویسٹرن یونیورسٹی لندن کے پروفیسر ڈیئن ہیکم کے مطابق شفٹ میں کام کرنے والے ملازمین زیادہ سوتے ہیں اور بری طرح کھاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ’رات کو کام کرنے والے افراد ہر وقت جاگ رہے ہوتے ہیں اور ان کا آرام کرنے کے حوالے سے کوئی متعین کردہ وقت نہیں ہوتا ہے، ان کا نروس سسٹم ہر وقت متحرک رہتا ہے جو کہ موٹاپے اور کولیسٹرول کے حوالے سے خطرناک ہے۔‘

محققین کے مطابق رات کو کام کرنے والے ملازمین کے طبی معاملات پر نظر رکھنے کے پروگرام بنائے جانے سے ان میں مرض کی تشخص اور علاج میں مدد ملے گی اور اس کے ساتھ ہائی بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کی سطح کو کنٹرول کرنے میں مدد ملے گی۔

اسی بارے میں