اولمپکس لیبارٹری ایک جدید تحقیقی مرکز

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption یہ مرکز ایسیکس کے علاقے ہارلو میں قائم لندن اولمپکس کی نشہ آور ادویات کی روک تھام اور ٹیسٹنگ کی لیبارٹری کی جگہ پر بنے گا۔

برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون اولمپکس کے لیے بنائی گئی ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری کی جگہ پر دس ملین پاؤنڈز کی لاگت سے ایک سائنسی تحقیقی مرکز بنانے کا اعلان کریں گے۔

’فینوم‘ نامی یہ مرکز طبعی خصوصیات جیسا کہ بالوں اور آنکھوں کا رنگ اور مختلف بیماریوں جن میں ڈیمنشیا اور زیابیطس شامل ہیں پر بہتر تحقیق کر کے معیاری معلومات کی فراہمی میں معاون ثابت ہو گا۔

وزیراعظم کیمرون عالمی صحت کی صنعت سے وابستہ پانچ سو نمایاں افراد سے خطاب میں کہیں گے کہ برطانیہ تحقیق کے میدان میں ’دنیا کی رہنمائی‘ کرے گا۔

کیمرون متوقع طور پر کہیں گے کہ ’جب کھیل اختتام پذیر ہوں گے تو یہ تمام شاندار سازوسامان اور مہارتیں ’فینوم‘ جو کہ صحت اور بیماریوں کی حیاتیاتی نشانیوں پر تحقیق کا ایک مرکز ہو گا بنانے کے لیے استعمال کی جائیں گیں۔

’یہ مرکز جینیاتی ڈیٹا کو خون اور ٹشو کے طبی جائزوں سے ملانے میں موجود غیر معمولی مہارت کا فائدہ اٹھائے گا‘۔

’یہ ہمیں بیماری کی خصوصیات اور بیماری کیسے جین اور ہمارے ماحول سے منسلک ہے کے بارے میں بھی سمجھنے کا موقع دے گا‘۔

وہ مزید یہ کہیں گے کہ ’یہ ایک شاندار مثال ہو گی بہترین تحقیق، طبی صنعت اور نیشنل ہیلتھ سروس کے درمیان تعاون کی۔ یہ ادویات کی نئی اقسام بنائے گی اور مخصوص ادویات کی تیاری میں دنیا کی رہنمائی کرے گی ‘۔

یہ مرکز ادویات بنانے والی کمپنی گلیکسو سمتھکلائن چلائے گی اور اس کے لیے پانچ سال کے عرصہ میں میڈیکل ریسرچ کاؤنسل اور وزارتِ صحت کے نیشنل انسٹیٹیوٹ برائے ہیلتھ ریسرچ دس ملین پاؤنڈ کے اخراجات فراہم کریں گے۔

برطانیہ کے وزیر صحت اینڈریو لینسلی نے کہا کہ ’اس نئے مرکز میں ہماری سرمایہ کاری جو اس نوعیت کی پہلی ہے، مریضوں کے لیے بہتر مخصوص علاج کا اعادہ کرتی ہے جس میں کئی قسم کی عام بیماریاں جیسا کہ زیابیطس، امراض دل اور ڈیمینشیا شامل ہیں‘۔

لینسلی کا کہنا تھا کہ ’مریض جلد اور بالکل درست تشخیص سے فائدہ اٹھائیں گے اور محقق نئی ادویات اور علاج تیار کرسکیں گے اور ہم بیماریوں کی خصوصیات اور ان کی نئی ذیلی اقسام کو دریافت کر کے ان کے بارے میں مزید جان سکیں گے‘۔

برطانیہ کی چیف میڈیکل آفیسر ڈیم سیلی ڈیویز نے کہا کہ ’یہ تحقیقی مرکز لوگوں کی طبعی خصوصیات اور بیماری کے بارے میں ہماری سوچ اور سمجھ کو بدل کر رکھ دے گا اور ہمیں ان دریافتوں کو مریضوں کے لیے حقیقی فوائد میں بدلنے کا موقع دے گا‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’تحقیق کرنے والوں کی طرف سے کی گئی ترقی نئے طریقۂ علاج دریافت کرنے میں مدد دے گی خاص طور پر ایسے علاج جو کہ فرد واحد کے لیے خصوصی طور پر بنے ہوں‘۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’اس مرکز میں اس بات کی صلاحیت ہے کہ یہ اُس طریقۂ کار میں انقلابی تبدیلی لائے جس کے تحت بہت ساری بیماریوں کا علاج کیا جاتا ہے‘۔

اسی بارے میں