زخم بھرنے کے لیے جِلد نما سپرے

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

امریکی اور کینیڈین محققین کا کہنا ہے کہ زخموں پر جلد کے خلیے پھیلانے والا ایک سپرے زخم بھرنے میں مدد دے سکتا ہے۔

تحقیق کے دوران اس سپرے کو دو سو اٹھائیس افراد کی ٹانگوں پر موجود السرز یا طویل عرصے تک تازہ رہنے والے زخموں پر آزمایا گیا۔

لانسٹ جریدے میں شائع ہونے والے نتائج کے مطابق جن السرز پر سپرے کیا گیا تھا ان کے ٹھیک ہونے کا امکان زیادہ جبکہ ٹھیک ہونے کے لیے درکار وقت کم ہو گیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سپرے کے استعمال سے مریض کے لیے مجموعی طور پر مالی بچت بھی ہے۔

ٹانگوں میں ہونے والے السر زخموں کا بھرنا ایک مشکل کام ہے۔ اس وقت ان کا بہترین علاج کمپریشن پٹیاں ہیں جو کہ چھ ماہ میں ستّر فیصد زخم بھرتی ہیں۔ اس علاج کے علاوہ متبادل علاجوں میں جسم کے دوسرے حصے سے جلد کاٹ کر زخم بھرا جاتا ہے۔

جلد جیسے سپرے میں جلد کے خلیے اور خون جمانے والے پروٹین موجود ہیں۔

تحقیق کے مطابق ہر چودہ روز کے موازنے کے بعد سپرے والے مریضوں میں سب سے زیادہ بہتری دیکھی گئی۔

محققین نے بتایا کہ علاج کے آغاز سے ہی سپرے کیے گئے زخم تیزی سے چھوٹے ہونے لگے۔ تین ماہ بعد ان میں سے ستر فیصد ٹھیک ہو چکے تھے جبکہ دیگر طرزِ علاج سے چھیالیس فیصد زخم بھرے گئے۔

اس سپرے کو ہیلتھ پوئانٹ بائیو تھیراپیٹکس نامی ایک امریکی کمپنی نے تیار کیا ہے۔

اس تحقیق سے منسلک ایک سائنسدان ڈاکٹر ہربٹ سلیڈ کا کہنا تھا ’اس طرزِ علاج سے ٹانگوں پر ہونے والے السر زخموں کو بہتر انداز میں اور کم وقت میں بھرا جا سکتا ہے اور اس میں جسم کے دوسرے حصے سے جلد بھی نہیں اتارنی پڑتی‘۔

ان کا مزید کہنا تھا ’اس کا نہ صرف یہ مطلب ہے کہ دوسری جگہ سے جلد لینے کے لیے آپ کو ایک اور زخم کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی بلکہ آپ سپرے کا استعمال تو فوری طور پر شروع کر سکتے ہیں۔ دوسری جگہ سے کاٹی ہوئی جلد کو تو پہلے تیار کرنا ہوتا ہے جس میں وقت درکار ہوتا ہے‘۔

ٹانگوں میں السر کی عام وجہ بلند فشارِ خون (ہائی بلڈ پریشر) ہوتا ہے جس کی وجہ سے ٹانگوں میں موجود وریدیں جلد پر دباؤ ڈالتی ہیں اور وہ پھٹ جاتی ہے اور ایک کھلا زخم بن جاتا ہے۔

ان زخموں کی ماہر آئیرین اینڈرسن کا کہنا تھا کہ البتہ پٹیوں یا دیگر طریقوں سے ان زخموں کو ٹھیک کیا جا سکتا ہے تاہم جب تک بنیادی مسئلہ حل نہیں کیا جاتا ٹانگ کی جلد پھر پھٹ سکتی ہے۔