زندگی بچانے کے لیے موبائیل ایس ایم ایس

تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption ایس ایم ایس بڑے اہم کاموں کے لیے استعمال کیے جاسکتے ہیں

ہم اپنی ‏روز مرہ کی زندگی میں موبائیل ایس ایم ایس کا استعمال ضروری پیغام رسانی یا بسا اوقات دوستوں سے مذاق کرنے کے لیے کرتے ہیں لیکن ملاوی جیسے ملک میں موبائیل ایس ایم ایس کا استعمال زندگي بچانے جیسے فلاحی کاموں کے لیے کیا جا رہا ہے۔

ملاوی جو اپنے صاف پانی کی جھیلوں کے لیے مشہور ہے وہیں ایچ آئی وی ایڈز جیسی بیماریوں کے لیے بھی جانا جاتا ہے جہاں دنیا کے سب سے زیادہ ایڈز سے متاثرہ لوگ پائے جاتے ہیں۔

ملک کی تقریبا گيارہ فیصد بالغ آبادی ایچ آئی وی ایڈز سے متاثر ہے اور تقریبا سوا لاکھ سے زائد بچے اس بیماری میں مبتلا ہیں۔

اقوام متحدہ کے تخمینوں کے مطابق ایچ آئي وی جیسے وائرس سے نئے متاثر ہونے والے تقریباً پچیس فیصد وہ بچے ہوتے ہیں جو اپنے والدین سے ایڈز کی بیماری پاتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ بچے کی پیدائش کے فوراً بعد اس کا ٹیسٹ ضروری ہے۔

اور اگر ٹیسٹ میں بچہ ایچ آئی وی پازیٹیو پایا گیا تو فوری طور پر اس کا علاج بھی شروع کرنا ضروری ہے۔ تاہم دوردراز کے علاقوں میں مواصلاتی نظام کی کمی کے سبب اس عمل میں کافی تاخیر ہوتی تھی۔

ملاوی میں ٹیسٹ کے لیے لیبارٹریوں کی تعداد کم ہیں اور اگر ہیں بھی تو ٹیسٹ کے بعد وہاں سے رپورٹ پہنچانے کے لیے کوریئر کا نظام غیر موثر ہے اور نتائج جاننے میں بہت تاخیر ہوتی ہے۔

کئی بار اس عمل میں مہینوں لگ جاتے تھے اور بیشتر کا تو ٹیسٹ ہی نہیں ہو پاتا۔ اسی صورت حال سے نمٹنے کے لیے ملاوی میں ایڈز سے متعلق اقوام متحدہ کے حکام نے غور و فکر شروع کیا اور پھر معلومات کو تیزی سے پہنچانے کے لیے موبائیل ایس ایم ایس کا سہارا لینے کا فیصلہ کیا۔

اس سلسلے میں یونیسیف کی مخصوص ٹیم ہے جس نے ’ریپڈ ایس ایم ایس‘ کے نام سے ایک پروگرام تیار کیا ہے۔ اس کے تحت ایس ایم ایس کے لیے پہلے معلومات جمع کیں جاتی ہیں اور پھر بڑے گروپ تک اسے بھیجا جاتا ہے۔

اس منصوبے سے وابستہ ایریکا کوچی کہتی ہیں کہ پہلے اس کاوش کا مقصد بہتر طور پر معلومات جمع کرنا تھا۔ ’پھر ہم نے معلومات کی ترسیل کے لیے ایس ایم ایس کا سہارا لینے پر غور کیا اور ہمیں لگا کہ ہم اس کے ذریعے بہت کچھ کر سکتے ہیں‘۔

ایریکا کوچي کے مطابق اب جن بچوں یا مریضوں کا ٹیسٹ کیا جاتا ہے انہیں ایس ایم ایس کے ذریعے نتائج سے آگاہ کیا جاتا ہے۔ ’اب انہیں اس کے لیے زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑتا‘۔

یہی طریقہ کار اب دیگر سروسز جیسے صومالیہ کے قحط زدہ علاقے میں غذائی اشیاء کی تقسیم کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ ان کے مطابق پہلے لوگوں کو فارم پر کرنے ہوتے تھے، طویل انتظار کرنا پڑتا تھا اور پھر بہت سے لوگ رہ جاتے تھے لیکن چونکہ اب اس سے متعلق معلومات جمع ہیں اس لیے تیزی سے کام ہوتا ہے اور پتہ رہتا ہے کہاں کتنے کھانے کی ضرورت ہے۔

بچوں کی غذایت ایک بڑا مسئلہ ہے اور انہی معلومات کی بدولت اس سروس کو بھی موثر طور پر انجام دیا جاتا ہے۔

ملاوی میں ایچ آئی وی ایڈز پروجیکٹ کی سربراہ ڈاکٹر مون کہتی ہیں کہ سب سے بڑا مسئلہ لیبارٹری میں ٹیسٹ کے بعد نتائج کو پہنچانا ہوتا تھا لیکن اب شعبہِ طب کے رضا کاروں کو موبائیل ایس ایم ایس سے فوری طور پر معلومات پہنچا دی جاتی ہیں۔

ان کے مطابق '' لیب کے نتائج کی ترسیل اب بہت تیز ہوگئی ہے اور پہلے کوریئر کے ذریعے نتائج گم ہو جاتے تھے‘۔

لیبارٹری ٹیسٹ سے متعلق معلومات، مریضوں کی بنتی بگڑتی صحت اور نئے کیسز جیسی تمام معلومات جمع ہوتی ہیں اور جہاں جس کی جیسی ضرورت ہوتی ہے اسے فوراً بھیج دیا جاتا ہے۔

کوچی کا کہنا ہے کہ ’ہر تبدیلی کا ریکارڈ رکھا جاتا ہے اور اس سے ایک ایسا معلومات کا مجموعہ تیار ہوتا رہتا ہے جو انتظامیہ، فیصلہ کرنے والوں اور اعلی حکام کے لیے بہت کار آمد ثابت ہوتا ہے۔

اسی بارے میں