مریخ پر کیوروسٹی کا آزمائشی سفر مکمل

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 23 اگست 2012 ,‭ 07:53 GMT 12:53 PST

گزشتہ روز ناسا کا کہنا تھا کہ کیوروسٹی میں نصب ہوا کی رفتار معلوم کرنے والے آلے کو نقصان پہنچا ہے

امریکی خلائی ایجنسی ناسا کا کہنا ہے کہ مریخ پر بھیجی گئی ’کیوروسٹی‘ نے اپنا پہلا آزمائشی سفر مکمل کر لیا ہے۔

کیوروسٹی نے بدھ کو اپنے چھ پہیوں پر تقریباً ساڑھے چار میٹر چلی اور اپنے پہیوں پر رہتے ہوئے ایک سو بیس ڈگری گھومی۔

اس سفر کو مکمل کرنے میں کیوروسٹی کو تقریباً پانچ منٹ کا وقت لگا۔ اس سفر کے نتیجے اور اس تاریخی لمحے کی تصاویر لینے میں کیوروسٹی کو دس منٹ لگے۔

کیوروسٹی پروجیکٹ کے مینیجر پیٹ تھیسنگر کا کہنا تھا ’ہم نے یہ روٹک گاڑی بنائی ہے لیکن جب تک گاڑی نہ چلے سمجھیے ہمیں کوئی کامیابی نہیں ملی۔ گاڑی کا چلنا ہی ہماری کامیابی ہے۔‘

اس سے قبل گزشتہ روز ناسا کا کہنا تھا کہ کیوروسٹی میں نصب ہوا کی رفتار معلوم کرنے والے آلے کو نقصان پہنچا ہے۔

مشن ٹیم کا کہنا ہے کہ اس آلے کو معمولی نقصان ہوا ہے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ یہ کوئی بڑا نقصان نہیں ہے اور کیوروسٹی معلومات بھیجتی رہے گی لیکن کچھ معلومات کا معیار تھوڑا کم ہو جائے گا۔

اس بارے میں حتمی فیصلہ نہیں ہو سکا کہ اس آلے کو نقصان کیسے پہنچا ہے لیکن اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ کیوروسٹی کی مریخ پر لینڈنگ کے وقت پتھر اڑ کر اس آلے کو لگے ہوں گے جس کے باعث یہ نقصان پہنچا۔

کیوروسٹی مریخی پتھروں کو معائنے کی غرض سے توڑنے کے لیے تیار ہے۔

کیوروسٹی کے قریب پڑے پتھر کی سطح کو شعاعوں سے بخارات میں تبدیل کر دیا جائے گا تاکہ اس کی بنیادی کیمیات معلوم کی جاسکیں۔

اس پتھر کو این ون سکس فائیو کا نام دیا گیا ہے اور اس کی سائنسی اہمیت نہیں بلکہ اس تجربے سے صرف یہ اندازہ ہوگا کہ شعاعوں کا آلہ کام کرنے کے لیے تیار ہے۔

کیوروسٹی کو دو ہفتے پہلے مریخ پر اتارا گیا تھا۔

اس مشن کو خلائی تاریخ کا ایک انتہائی جرات مندانہ مشن قرار دیا جاتا ہے اور یہ ایک ٹن وزنی گاڑی سیارے پر اپنے دو سالہ قیام کے دوران یہ معلوم کرنے کی کوشش کرے گی کہ آیا کبھی مریخ پر زندگی کے آثار موجود تھے یا نہیں۔

اگراس آلے کی شعاعیں ایک دلچسپ پتھر کو ڈھونڈ لے گی تو کیوراسٹی اس پتھر کے قریب ہو جائے گی اور تفصیلی معائنہ کرنے کے لیے دوسرے آلات کا استعمال شروع کر دے گی۔

کیوروسٹی میں ویسے تو اور بھی آلات ہیں لیکن کم کیم سب سے زیادہ توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے کیوں کہ یہ گاڑی کے اوپر لگا ہوا ہے اور اس کے شعاعیں تئیس فٹ کے فاصلے پر پڑے پتھروں تک پہنچتی ہے۔

آلے سے نکلنے والی انفرا رڈ شعاعیں ہدف پر ایک ملین واٹ توانائی کے ساتھ پڑتی ہیں اور وہ بھی ایک سیکنڈ کے اربویں حصے سے کم وقت کے لیے۔

اس سے چنگاری پیدا ہوتی ہے اور یہ آلہ دوربین کے ذریعے معائنہ کرتا ہے۔ اور پھر سائنسدان رنگوں سے معلوم کرتے ہیں کہ کس قسم کے کیمیائی عناصر پتھر میں موجود ہیں۔

مریخ پر کیوروسٹی کے دو سالہ قیام کے دوران کم کیم تجربات کے لیے نمونے اکٹھا کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔