سام سنگ: جرمانے کے خلاف اپیل کا فیصلہ

آخری وقت اشاعت:  اتوار 26 اگست 2012 ,‭ 13:33 GMT 18:33 PST

مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ انٹیلیکچؤل پراپرٹی یعنی کاپی رائٹ کے بارے میں جاری ایک عالمی جنگ میں بہت نمایاں ہے۔

سام سنگ نے ایک جاری کیے گئے بیان میں کہا ہے کہ وہ امریکی عدالت کے ایک ارب ڈالر کے جرمانے کے فیصلے کے خلاف اپیل کرے گا۔

جنوبی کوریا کی ٹیکنالوجی کمپنی سام سنگ کو جمعہ کے روز ایک امریکی عدالت نے حکم دیا تھا کہ وہ امریکی کمپنی ایپل کو ایک اعشاریہ صفر پانچ ارب ڈالرز جرمانے کے طور پر ادا کرے۔

سام سنگ کا کہنا ہے کہ وہ عدالت کے اس فیصلے پر کہ سام سنگ نے سمارٹ فون اور ٹیبلٹس بنانے کے لیے امریکی کمپنی ایپل کے ڈیزائن کی نقل کی ہے اپیل کرے گا۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ انٹیلیکچؤل پراپرٹی یعنی کاپی رائٹ کے بارے میں جاری ایک عالمی جنگ میں بہت نمایاں ہے۔

واضح رہے کہ ایپل اور سام سنگ دنیا میں سمارٹ فونز اور ٹیبلٹ کمپیوٹر بنانے والی بڑی کمپنیوں میں شامل ہیں اور ماضی میں بھی یہ دنیا کے کئی ممالک میں ایک دوسرے پر قانونی دعوے کرتی رہی ہیں۔

گزشتہ ہفتوں میں ایک برطانوی عدالت نے ایپل کا دعویٰ مسترد کر دیا تھا کہ سام سنگ نے اس کے کاپی رائٹ کی خلاف ورزی کی ہے۔

لیکن اس فیصلے کے نتیجے میں ہونے والا جرمانہ تاریخ میں ایک بہت بڑا جرمانہ ہے۔

"امریکی عوام کے لیے ایک نقصان ہے جس سے ان کے لیے انتخاب کے مواقع محدود ہو جائیں گے جدت میں کمی ہو گی اور قیمتوں میں اضافہ ہو گا۔"

سام سنگ

سام سنگ نے جمعہ کو سنائے جانے والے فیصلے کے بارے میں کہا کہ یہ فیصلہ ’امریکی عوام کے لیے ایک نقصان ہے جس سے ان کے لیے انتخاب کے مواقع محدود ہو جائیں گے جدت میں کمی ہو گی اور قیمتوں میں اضافہ ہو گا۔‘

سام سنگ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں مزید کہا گیا کہ ’یہ افسوسناک ہے کہ پیٹنٹ قوانین کو ایک کمپنی کو مستطیل شکل اور گول کونوں والے (مصنوعات) پر اجارہ داری دینے کے لیے اپنی منشاء کے مطابق تبدیل کیا جا سکتا ہے۔‘

دوسری جانب ایپل نے ایک بیان میں عدالت کو سراہا ہے کہ اس نے’ سام سنگ کے دیدہ دانستہ رویے کو جانا اور ایک واضح پیغام بھیجا ہے کہ چوری درست نہیں ہے۔‘

ایپل بیس تاریخ کو ہونے والی اگلی سماعت میں سام سنگ کی مصنوعات کی امریکہ میں فروخت پر پابندی کی درخواست کرے گا۔

"عدالت نے سام سنگ کے دیدہ دانستہ رویے کو جانا اور ایک واضح پیغام بھیجا ہے کہ چوری درست نہیں ہے۔"

ایپل

ایپل اور سام سنگ اپنے سمارٹ فون کے لیے معروف ہیں اور دنیا میں مجموعی طور پر دونوں کمپنیاں فون مارکیٹ پر قابض ہیں۔ دونوں میں بنیادی تنازعہ سمارٹ فون کی ٹیکنالوجی کے حوالے سے ہے۔

امریکی ریاست کیلی فورنیا کی عدالت کے نو ارکان نے اپنا فیصلہ سنانے سے پہلے دونوں کمپنیوں کے کلیمز کے حوالے سے سات سو سوالات کو مدِ نظر رکھا۔

اس مقدمے کا متفتہ فیصلہ سنانے سے پہلے عدالت نے دو دن سے زیادہ غوروغوض کیا۔

مبصرین اب توقع کر رہے ہیں کہ ایپل اس فیصلہ کو استعمال کر کے گوگل کے انڈروئیڈ سافٹ وئر کے خلاف بھی چارہ جوئی کرے گا جس کے بارے میں اس کا دعویٰ ہے کہ وہ اس کے سافٹ وئر کے بعض حصوں کو ردو بدل کر کے استعمال کر رہا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔