نوجوانی میں بھنگ کا استعمال نقصان دہ

آخری وقت اشاعت:  منگل 28 اگست 2012 ,‭ 04:43 GMT 09:43 PST

نیوزی لینڈ میں کی گئی ایک نئی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ بھنگ پینے والے نوجوانوں کی ذہانت میں نمایاں طور پر کمی آتی ہے۔

محققین کی بین الاقوامی ٹیم کے مطابق جن لوگوں نے اٹھارہ سال کی عمر سے پہلے بھنگ یا نشہ آور جڑی بوٹی کا استعمال شروع کیا، ان کی ذہانت میں کمی دیکھنے میں آئی اور بعد میں استعمال ترک کرنے پر بھی ذہنی صلاحیت بحال نہیں ہوئی۔

نیوزی لینڈ کے شہر دوندن میں سائنسدانوں نے بیس سال سے زائد عرصے تک ایک ہزار افراد پر مشتمل ایک گروپ کا مشاہدہ کیا۔

سائنسدانوں نے ان افراد کا اس وقت سے مشاہدہ کرنا شروع کیا جب انہوں نے بھنگ کا استعمال شروع نہیں کیا تھا اور اس کے بعد اڑتیس سال کی عمر تک پہنچنے کے دوران ان کے انٹرویوز کرتے رہے۔

اس دوران دیگر عوامل جیسا کہ شراب نوشی، سگریٹ نوشی یا دیگر منشیات کا استعمال اور تعلیم میں صرف کیے جانے والے عرصے کو بھی مدنظر رکھا گیا۔

اس دوران جن لوگوں نے بھنگ کا استعمال شروع کیا انہیں دہانت میں کمی کے مسئلے سے دوچار ہونا پڑا۔ محققین کے مطابق جتنی زیادہ بھنگ پی جائے گی ذہانت کے متاثر ہونے کا اتنا ہی خدشہ ہوتا ہے۔

ٹیم میں شامل برطانیہ کے ایک ماہر کے مطابق یہ تحقیق اس بات کی وضاحت کر سکے گی کہ جو لوگ اٹھارہ سال کی عمر سے پہلے منشیات کا استعمال شروع کر دیتے ہیں وہ اکثر زیادہ کامیاب نظر نہیں آتے ہیں۔

کنگز کالج لندن میں نفسیات کے پروفیسر ٹیری موفٹ کے مطابق یہ ایک خاص تحقیق ہے اور میں مکمل اعتماد کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ اٹھارہ سال کی عمر سے پہلے بھنگ کا استعمال شروع کرنا ذہن کے لیے نقصان دہ ہے لیکن اٹھارہ سال کی عمر کے بعد اس کا استعمال محفوظ ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھنگ کے استعمال کا زیادہ نقصان ان لوگوں کو ہوتا ہے جب نوجوانی میں اس کا استعمال شروع کر دیتے ہیں۔

"میں مکمل اعتماد کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ اٹھارہ سال کی عمر سے پہلے بھنگ کا استعمال شروع کرنا ذہن کے لیے نقصان دہ ہے لیکن اٹھارہ سال کی عمر کے بعد اس کا استعمال محفوظ ہے۔"

پروفیسر ٹیری موفٹ

مثال کے طور پر محققین کو معلوم ہوا کہ جو لوگ نوجوانی میں اس کا استعمال شروع کرتے ہیں اور پھر مسلسل کئی سال تک جاری رکھتے ہیں تو ان کی ذہانت یا آئی کیو کے پوائنٹس میں اوسطً آٹھ درجے کمی آتی ہے۔

اس کے بعد بھنگ کے استعمال کو محدود کرنے یا چھوڑنے کی صورت میں بھی ذہنی صلاحیت پوری طرح سے بحال نہیں ہوتی ہے۔

محققین کے مطابق مسلسل بیس سال سے بھنگ کے عادی افراد میں نیورو سائیکالوجیکل کمی آتی ہے اور بہت زیادہ بھنگ استتعمال کرنے والوں میں یہ کمی اور زیادہ ہوتی ہے۔ انہوں نےکہا ہے کہ اس تحقیق سے بھنگ کے استعمال سے منسلک خطرات کو قابل ذکر حد تک سمجھنے میں مدد ملی۔

اس کام کو سرانجام دینے کے لیے حیران کن سائنسی کوشش کی گئی، اس میں ایک ہزار لوگوں پر نظر رکھی گئی، جب وہ بچے تھے اور کبھی بھی بھنگ کا استعمال نہیں کیا تھا تو ان کی ذہنی صلاحتیوں کا جائزہ لیا اور پچیس سال کے بعد ان کا دوبارہ مشاہدہ کیا گیا اور اس وقت ان میں بعض افراد بھنگ کے شدید عادی بن چکے تھے۔

اس میں بھنگ کے عادی افراد میں تعلیم کے میدان، شادی اور پیشہ وارانہ زندگی میں قدرے کم کامیابیاں حاصل ہوئیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔